ایک تقاضا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۲
مکان پر تھا۔ موصوف نہایت دیہ دار آدمی ہیں اور قدیم مشرقی وضع کا نمونہ ہیں ۔ بھوپال کی ریاست 1723ء میں قائم ہوئی ۔ وہ حیدر آباد کے بعد ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی مسلم ریاست تھی ۔ اس کے پہلے فرماں روا سردار دوست محمد خاں ( ۱۱۵۰- ۱۱۲۰ ھ) تھے ۔ اور آخری فرماں رواں نواب حمید اللہ خاں ( ۱۹۴۹- ۱۹۲۲ء) تھے ۔ اس دوران ریاست بھوپال سے جو واقعات وابستہ ہیں ان میں سے ایک خاص واقعہ نواب صدیق حسن خاں صاحب ( ۱۸۹۰- ۱۸۳۲ء) کا ہے۔ وہ قنوج میں پیدا ہوئے ۔ عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔ معاشی مسئلہ سے مجبور ہو کر وہ نوجوانی کی عمر میں اپنے وطن سے نکلے ۔ مختلف نشیب و فراز کے بعد بالآخر وہ بھوپال پہنچے ۔ یہاں ۱۸۵۹ء میں تاریخ نگاری کے کام پر ان کا تقرر ہوا اور 75 روپیہ مشاہرہ مقرر ہوا ۔
صدیق حسن صاحب نہایت ذہین آدمی تھے ۔ اسی کے ساتھ وہ جسمانی اعتبار سے ایک پرکشش شخصیت رکھتے تھے ، چنانچہ بھوپال کی خاتون نواب شاہ جہاں بیگم کو ان سے دل چسپی ہوئی ۔ ابتداً ان کو ریاست میں ایک بڑے عہدے (میر دبیری) پر فائز کیا گیا ۔ اس کے بعد حکومت برطانیہ کی اجازت سے ۱۸۷۰ء میں ان کا عقد والیہ ریاست کے ساتھ ہو گیا ۔ ان کو امیر الملک والا جاہ کا خطاب ملا اور وہ نواب صدیق حسن خاں کہے جانے لگے ۔ دھیرے دھیرے بھوپال کے ریاستی اختیارات بھی عملاً ان کے قبضہ میں آگئے ۔
نواب صدیق حسن صاحب کے زمانہ میں بھوپال میں بہت سی دینی اصلاحات ہوئیں۔ ان کے لیے یہاں کام کے زبردست مواقع تھے ۔ مگر موصوف کے سیاسی ذہن کی وجہ سے یہ موقع بہت زیادہ دیر تک باقی نہ رہا ۔ ان کے سیاسی مزاج نے ان کو انگریزوں کی نظر میں معتوب بنا دیا ۔ ۱۸۸۵ء میں وہ نوابی سے معزول کر دیئے گئے ۔ بقیہ عمر انھوں نے خانہ قید ہو کر گزاری ۔
یہاں کے ایک صنعت کار جناب سیلم شمسی صاحب نے ہم کو بھوپال کی سیر کرائی ۔ اس سے اندازہ ہوا کہ دوسرے اکثر بڑے شہروں کی طرح بھوپال بھی دو بھوپال کا نام ہے ۔ بھوپال قدیم اور بھوپال جدید ۔ قدیم بھوپال تنگ سڑکوں ، گھنی آبادیوں اور گندی نالیوں کا نام ہے ۔ اس کے برعکس جدید بھوپال میں کشادہ سڑکیں ہیں ۔ کھلے ہوئے مکانات ہیں ۔ ہر طرف صفائی ستھرائی کا ماحول ہے ۔ قدیم بھوپال میں مسلمانوں کی تعداد ۳۰ فی صد ہے ۔ اور جدید بھوپال میں بمشکل ۵ فی صد یہ واقعہ علامتی طور پر مسلمانوں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues