Al-Risala · November 1986 · page 34

ایک تقاضا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۴

دہ ہندوستان ٹائمس ۸ دسمبر 1984 ) :

گیس کے حادثہ کو اب دو سال بیت چکے ہیں ۔ مگر ڈاکٹروں کی ایک ریسرچ ٹیم نے اندازہ لگایا ہے کہ اب بھی بھوپال تقریباً ۳۰ ہزار آدمی ایسے ہیں جو زہریلی گیس کے مابعد اثرات (After-effects) کا شکار ہیں ( انڈین ایکسپریس ۶ مئی ۱۹۸۶ )

بھوپال میں قدیم دور کی ایک یادگار تاج المساجد ہے جو غالباً ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد ہے ۔ یہ مسجد خاتون نواب شاہ جہاں بیگم نے ۱۸۸۶ میں بنوانا شروع کیا۔ ۱۹۰۱ میں ان کے انتقال کی وجہ سے کام رک گیا ۔ اس کی بنیادی تعمیر ہو چکی تھی ۔ تاہم اس کی تکمیل سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے بعد ان کی صاحبزادی سلطان جہاں ریاست کی تاجدار مقرر ہوئیں ۔ مگر ماں بیٹی میں اتنا زیادہ بگاڑ تھا کہ سلطان جہاں بیگم جب اقتدار میں آئیں تو انھوں نے مسجد کی مزید تعمیر کا کام روک دیا۔ حتی کہ مجھے معلوم ہوا کہ شاہ جہاں بیگم کے زمانہ میں جو اینٹیں تیار کی گئی تھیں ان پر ان کے نام کی نسبت سے ’ش لکھا گیا تھا۔ سلطان جہاں بیگم کے زمانہ میں اینٹوں پر ش کا نقطہ منصوبہ کے تحت مٹایا گیا تاکہ ’ش‘ کا حرف "س" کا حرف بن جائے جو سلطان جہاں بیگم سے مشابہت رکھتا ہے ( ماں اور بیٹی کے درمیان اس بگاڑ کی وجہ غالباً صدیق حسن خاں صاحب سے نکاح تھا ) اس نامکمل مسجد کو مکمل کرانے کا کام آزادی کے بعد مولانا محمد عمران خاں صاحب نے اپنی تولیت میں لیا اور مولانا سید سلیمان ندوی کے مشورہ پر اس میں عربی مدرسہ کی بنیاد ڈالی ۔ نوابی دور میں عربی کا مدرسہ احمدیہ تھا۔ وہ سرکاری خرچ پر چلتا تھا۔ مسلم ریاست میں ختم ہونے کے بعد وہ ختم ہو گیا۔ اس خلا کو اس مدرسہ نے پر کیا جسے مولانا عمران خاں صاحب نے قائم کیا تھا۔ پھر ۱۹۷۱ء میں مولانا محمد عمران خاں صاحب نے شاہ محمد یعقوب صاحب مجددی کے مشورہ پر تاج المساجد کی تکمیل کا آغاز کیا۔ دار العلوم تاج المساجد کے استاد ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے بتایا کہ شاہ محمد یعقوب صاحب مجددی نے حکمت کی ایک بات مولانا کو یہ بتائی کہ بھوپال کے باہر سے کسی طرح کچھ پیسہ لاکر ایک بار کام شروع کر دیجئے ۔ بھوپال والے جب کام ہوتا ہوا دیکھیں گے تو پیسہ دینا شروع کر دیں گے ۔ اور عملاً ایسا ہی ہوا ۔ تاج المساجد کی تکمیل کی فنی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page