ایک تقاضا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۶
ہندوستان کی آزادی (۱۹۴۷) سے پہلے ملکہ کے دینی اور ملی اداروں کے لیے مالی تعاون کا سب سے بڑا ذریعہ دو تھا۔ ریاست حیدر آباد، اور سیاست بھوپال ۔ آج دنیا بھر میں دینی اور ملی سرگرمیوں کو تعاون دینے کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عرب پٹرول کو بنا رکھا ہے۔ مگر اُس وقت عربوں کا یہ حال تھا کہ وہ ایک ایسی قوم تھے جن کو خود باہری امداد کی ضرورت تھی۔ اس زمانے میں ہندوستان سے عربوں کی مدد کے لیے رقمیں بھیجی جاتی تھیں۔ ہندوستان کے ایک شہر میں ایک وقف " بیت المدینہ " کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ وقف نامہ کے مطابق اس کا خاص مقصد یہ تھا کہ اس کی آمدنی کو " ’’غرباء مدینہ‘‘ " کی بہبود پر صرف کیا جائے ۔ مگر آج کا حیدر آباد اور بھوپال اس سے مختلف ہے ۔
بھوپال کے آخری فرماں روا نواب حمید اللہ خاں نے مولانا سید سلیمان ندوی کو قاضی ریاست کی حیثیت سے بھوپال بلایا تھا۔ سید صاحب زیادہ عرصہ تک بھوپال نہ رہ سکے ۔ تاہم ان کے مختصر زمانہ قیام میں بعض ضروری کام ہوئے ۔ ان کے مشورہ پر مولانا محمد عمر ان خاں صاحب نے یہاں ایک عربی مدرسہ قائم کیا جو کہ ندوہ کی شاخ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ بھوپال میں دوسرا عربی مدرسہ جامعہ اسلامیہ (ترجمہ والی مسجد) کے نام سے مشہور ہے جو دار العلوم دیو بند کے انداز پر چلایا جارہا ہے۔
آزادی کے بعد جب بھوپال کی ریاست ختم ہوئی تو نواب حمید اللہ خاں صاحب نے نئی سرکار سے جو معاہدہ کیا اس میں ایک اہم بات یہ بھی شامل تھی کہ جن مساجد کے ائمہ و موذنین کی تنخواہ ریاست کے ذمہ تھی اس کی ذمہ داری نئی سرکار لے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب ریاست بھوپال کی تقریباً تین سو مساجد کے ائمہ و موذنین کی تنخواہ سرکاری گرانٹ سے دی جاتی ہے، اس میں دار القضاء و دار الافتاء کا خرچ شامل ہے۔ ہر امام کی تنخواہ تین سو روپے ، موذن کی ڈھائی سو اور قاضی کی دس سو روپے ۔ موجودہ قاضی جناب مولانا وجدی الحسنی صاحب ہیں ، اور مفتی شہر مولانا عبد العلی صاحب ہیں۔ سرکار ایک کمیٹی تشکیل دیتی ہے جو یہ سارا انتظام کرتی ہے ، اسے مساجد کمیٹی کہتے ہیں۔ اس کے موجودہ سکریٹری جناب عبد الکریم صاحب اور چیئر مین جناب ملک حبیب صاحب ہیں ۔ یہی مساجد کمیٹی ایک اسکول بھی چلاتی ہے۔ عربی بول چال کی ایک کلاس جس میں ڈاکٹر حمید اللہ ندوی تعلیم دیتے ہیں اس کا خرچ بھی اسی کمیٹی کے تحت ہے۔ اس وقت مساجد کمیٹی کو جو گرانٹ دی جاتی ہے اس کی مقدار چودہ لاکھ روپے ہے ، پہلے صرف تین لاکھ تھی۔ یہ اضافہ سابق چیف منسٹر شری ارجن سنگھ کے زمانہ میں ہوا۔ معلوم ہوا کہ گرانٹ میں اضافہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues