Al-Risala · November 1986 · page 37

ایک تقاضا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۷

ہونے کے بعد بعض لوگوں نے صرف اس بات پر جھگڑ نا شروع کر دیا کہ اس اضافہ کا سہرا کس کے سر بندھے۔ کئی لوگ اسے اپنی کوششوں کا نتیجہ قرار دینے لگے۔ اس کی وجہ سے یہاں کافی تلخ ماحول پیدا ہو گیا۔ خود چیف منسٹر صاحب بھی بد دل ہو گئے۔ وہ چاہتے تھے کہ گرانٹ کی اس رقم میں مزید اضافہ کرائیں مگر جب انھوں نے مذکورہ حالات دیکھے تو اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔ اس گرانٹ کا تعلق مرکزی حکومت سے ہے۔ ریاستی چیف منسٹر اس میں درمیانی رول ادا کرتے ہیں )

بھوپال میں تین دن کے دوران 13 تقریریں ہوئیں۔ ہر تقریر میں توقع سے بہت زیادہ لوگ آئے۔ اور غیر معمولی تاثر کا اظہار کیا۔ مسلمانوں کے علاوہ ہندو صاحبان بھی اکثر اجتماعات میں شریک ہوئے۔ ایک ہندو بھائی سے ایک اجتماع کے بعد میں نے ان کا تاثر پوچھا۔ انھوں نے کہا: لوگ گنگا جل میں نہا کر پوتر ہوتے ہیں، آپ نے ہم کو اپنے شبدوں سے پوتر کر دیا۔ ایک ہندو بھائی نے ایک تقریر سننے کے بعد غیر معمولی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اب تو ڈکشنری کے الفاظ ختم ہو گئے ۔ ایک ہندو بھائی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ وحدت وجود (Monism) کا عقیدہ صحیح نہیں۔ اس عقیدہ کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ انسان خدا کا انش ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم خدا کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہوسکتے ہیں۔ اکثر اس عقیدہ کو بتانے کے لیے سمندر اور قطرہ کی مثال دی جاتی ہے ۔ سمندر اور قطرہ دونوں اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ ان میں جو فرق ہے وہ کمیت کے اعتبار سے ہے نہ کہ کیفیت کے اعتبار سے۔ مگر یہ ناقابل تصور ہے کہ خدا اور انسان دونوں ایک ہی جنس سے تعلق رکھتے ہوں ۔ صحیح بات یہ ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان خود کیفیت کے اعتبار سے فرق ہے نہ کہ محض کمیت کے اعتبار سے ۔ ایک اجتماع خاص طور پر شرعی قوانین کے مسئلہ پر ہوا۔ اس کا انتظام جناب خلیل اللہ خاں صاحب ایڈوکیٹ نے کیا تھا۔ لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور میری مفصل تقریر کو نہایت دل چسپی کے ساتھ آخر تک سنا۔

بھوپال کے تمام پروگرام غیر معمولی طور پر کامیاب رہے ۔ ہر پروگرام میں شہر کا انتہائی تعلیم یافتہ طبقہ کثرت سے شریک ہوا جو اب تک کسی دینی اجتماع میں شریک نہیں ہوا تھا۔ اس غیر معمولی کامیابی کا خاص سبب الرسالہ کی اشاعت ہے ۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی اور ان کے ساتھیوں نے پچھلے دو سال میں الرسالہ کو شہر کے تعلیم یافتہ طبقہ میں پہونچانے کی زبردست جدوجہد کی ہے۔ یہی کام ہر مقام پر ہمارے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page