ایک تقاضا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۰
۲۱ اپریل ۱۹۸۶ء کو ایک عیسائی مسٹر جارج (M. O. George) کی رہائش گاہ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ موصوف یہاں بنک منیجر ہیں۔ مکان نہایت صاف ستھرا تھا۔ ہر چیز میں صفائی اور قرینہ جھلک رہا تھا ایک دیوار پر ایک چوکھٹے میں فریم کی ہوئی تصویر نظر آئی ۔ دیکھا تو وہ حضرت مسیح کی تصویر تھی ۔ اس تصویر کے نیچے انگریزی میں یہ جملہ لکھا ہوا تھا :
Christ is the head of this house, the unseen guest, at every meal, the silent listener to every conversation. مسیح اس گھر کے سردار ہیں، ہر کھانے کے ساتھ نہ دکھائی دینے والے مہمان ، ہر گفتگو کو خاموشی کے ساتھ سننے والے ۔ یہ مسیح کے بارہ میں عیسائی حضرات کا عقیدہ ہے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کے لیے خدائی اوصاف فرض کر رکھے ہیں ۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلمان بھی اس معاملہ میں ان سے پیچھے نہیں ۔ انہوں نے بھی اپنے پیغمبر کے لیے ایسے عقیدے بنا لیے ہیں جس کے بعد خدا اور بندہ میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا ۔ بھوپال کی ملاقاتوں میں سے ایک خاص ملاقات حضرت پیر سعید میاں صاحب مجددی کی تھی ۔ آپ خانقاہ مجددیہ کے سجادہ نشین ہیں ۔ یہ خانقاہ حضرت شاہ پیر ابو احمد صاحب (۱۳۲۴-۱۴۶۰ء) کے زمانہ سے قائم ہے اور مسلسل عوام و خواص کا مرجع بنی رہی ہے۔
حضرت پیر سعید میاں صاحب قبلہ نے بہت سی قابل قدر دینی باتیں بتائیں۔ آپ نے بتایا کہ ایک بار حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری لاہور میں مقیم تھے ۔ آپ نے پیغام بھیج کر مولانا علی میاں صاحب اور مولانا منظور نعمانی صاحب کو لاہور بلوایا ۔ دونوں حضرات گئے اور حضرت رائے پوری کے ساتھ ٹھہرے ۔
ایک بار قیام گاہ پر شہر کے کافی لوگ جمع تھے ۔ لوگ چاروں طرف منتظر بیٹھے ہوئے تھے مگر حضرت رائے پوری بالکل خاموش تھے ۔ مولانا علی میاں نے چاہا کہ کسی طرح سکوت ٹوٹے اور حضرت رائے پوری کچھ فرمائیں جس سے حاضرین مستفید ہوں ۔ چنانچہ مولانا علی میاں نے حضرت رائے پوری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حضرت قرآن میں صبر کا بار بار ذکر ہے اور اس کی بہت تعریف آئی ہے ۔ کچھ اس کے بارہ میں ارشاد فرمائیں ۔ حضرت رائے پوری دو منٹ خاموش رہے۔ پھر کہا کہ آپ ہی فرمادیجیے۔ مولانا علی میاں نے کہا کہ حضرت ہم کو صبر کا اتنا ہی مطلب معلوم ہے جو لغت کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ اس پر
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues