ایک تقاضا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۱
حضرت رائے پوری دوبارہ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: ہم کو تو اتنا بھی نہیں معلوم۔ مجھے کھانے پینے کی دھوم سے کوئی دل چسپی نہیں۔ حتیٰ کہ پر تکلف دستر خوان پر جہاں اکثر لوگ معمول سے زیادہ کھاتے ہیں، میں معمول سے کم کھانے کی وجہ سے اکثر بھوکا رہ جاتا ہوں۔ بیرون ملک کی ایک بین اقوامی کانفرنس میں اسی "کم خوری" کی وجہ سے مجھے قبض ہو گیا ۔ طبی کمرہ میں گیا اور کہا کہ مجھے قبض کی کوئی دوا دیجیے۔ بڑے کمرہ میں کافی دوائیں بھری ہوئی تھیں ۔ مگر ڈاکٹر صاحب کافی تلاش کے باوجود قبض کی دوا نہ پاسکے۔ ۔ میں نے کہا کہ آپ کے یہاں تو دواؤں کا زبردست اسٹاک ہے۔ پھر آپ کے پاس قبض کی دوا کیوں نہیں ۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا " ہمارے پاس تو زیادہ تر دست کے کیس آرہے ہیں"۔
بھوپال میں مختلف لوگوں نے اپنے مکانات پر کھانے کا انتظام کیا ۔ اور اس میں معززین شہر کو مدعو کیا ۔ مثلاً سلیم شمسی صاحب ، ڈاکٹر عارفہ سیمیں صاحبہ، ڈاکٹر حمید اللہ ندوی و غیرہ۔ ان مواقع پر شہر کا خواص کا طبقہ اکٹھا ہو گیا۔ مثلاً مقامی ایم ایل اے ، اخبارات کے ذمہ دار ، ڈاکٹر ، وکلا اور اساتذہ صاحبان۔ جناب غفران اعظم ایم پی کے والد جناب محمد اعظم صاحب نے بھی اپنے یہاں کھانے کی ایک مجلس رکھی ۔ محمد اعظم صاحب شروع سے الرسالہ کو پسند فرماتے رہے ہیں اور مقامی طور پر الرسالہ کی تحریک سے وابستہ ہیں ۔
ان مجالس میں اعیانِ شہر سے ملاقات کے مواقع ملے جو کسی اور صورت میں یکجائی طور پر کم ہی ملتے ہیں۔ جناب نور محمد صاحب ڈی ٹی ٹنگس کے یہاں کھانے پر محکمہ تعلیمات کے ڈپٹی ڈائرکٹر سے ملاقات ہوئی اور تبادلہ خیال ہوا۔
بھوپال میں ڈاکٹر حمید قریشی (سابق منسٹر) سے ملاقات ہوئی۔ ہندوستان کی جدید سیاسی تاریخ سے ان کا گہرا تعلق رہا ہے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مہاتما گاندھی کی کیا خصوصیت تھی کہ وہ ملک کی سیاست پر چھا گئے انھوں نے کہا کہ ٹالرینس (برداشت)۔ انھوں نے بتایا کہ شملہ کانفرنس میں ایک بار گاندھی اور جناح دونوں وائسرائے سے بات چیت کر کے باہر نکلے تو گاندھی جی نے جناح صاحب سے کہا کہ آئیے۔ ہم دونوں ایک ساتھ چلیں۔ مگر جناح صاحب نے گاندھی جی کی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد گاندھی جی نے کہا کہ جناح صاحب ، اگر آپ میری گاڑی میں نہیں بیٹھتے تو میں ہی آپ کی گاڑی میں بیٹھتا ہوں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues