Al-Risala · November 1986 · page 42

ایک تقاضا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۲

اور پھر وہ جناح صاحب کے ساتھ بیٹھ کر واپس آگئے ۔

میں نے ڈاکٹر حمید قریشی سے کہا کہ گاندھی جی کے بارہ میں دو انتہائی مختلف قسم کی رائیں ہیں۔ کچھ لوگ ان کو نہایت مخلص سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ ان کو سیاسیی اداکار کہتے ہیں۔ ڈاکٹر حمید قریشی نے میرا سوال سن کر ایک لمحہ سوچا اور اس کے بعد کہا : گاندھی جی اگر اداکار تھے تو ان سے بڑھ کر دنیا نے کوئی دوسرا اداکار پیدا نہیں کیا۔

بھوپال کی ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات جناب پریم نارائن ایڈوکیٹ کی تھی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے ایک بڑا عجیب واقعہ بتایا۔

مسز گپتا نے کہا کہ اندرا گاندھی کے قتل سے کچھ پہلے بھوپال کے وکیلوں کا ایک وفد ان سے دہلی میں ملا تھا۔ اس وفد میں میں بھی شریک تھا۔ اس وقت اتفاق سے میرے ہاتھ میں قرآن کا ایک نسخہ تھا۔ مسز اندرا گاندھی جب باہر آئیں تو وفد سے ملتے ہوئے وہ میرے پاس کھڑی ہو گئیں۔ انھوں نے پوچھا کہ یہ کون سی کتاب ہے، میں نے کہا کہ قرآن۔ اس کے بعد انھوں نے فوراً قرآن پر گفتگو شروع کر دی۔ مقررہ وقت کا تقریباً پورا حصہ انھوں نے میرے ہی پاس کھڑے کھڑے گزارا اور پورے وقت میں وہ صرف قرآن پر گفتگو کرتی رہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں قرآن کو پڑھنا چاہتی ہوں۔ مگر اس کے ساتھ میں تقابل بھی کرنا چاہتی ہوں۔ یعنی میں جاننا چاہتی ہوں کہ قرآن میں کیا ہے اور دوسری مذہبی کتابوں میں کیا۔ انھوں نے بار بار مجھ سے کہا کہ کیا اس سلسلہ میں آپ میری مدد کر یں گے۔ مسز پریم نارائن گپتا سے یہ بات سن کر مجھے زبردست جھٹکا لگا۔ میں نے سوچا کہ مسٹر اندرا گاندھی کے طویل زمانہ حکومت میں بے شمار مسلمان قائدین ان سے ملے، جن میں بارلیش قائدین بھی تھے اور بے ریش قائدین بھی۔ مگر یہ سارے مسلم قائدین سابق وزیر اعظم کے سامنے صرف اپنی "قومی کتاب" پیش کرتے رہے۔ انھوں نے ان کے سامنے کبھی خدا کی کتاب پیش کرنے کی کوشش نہیں کی ۔

ان قائدین میں سے ہر شخص مسٹر اندرا گاندھی سے صرف اس لیے ملا کہ وہ ان کے سامنے مسلمانوں کی شکایات پیش کرے۔ وہ ان کے سامنے مسلمانوں کے معاشی اور سیاسی مطالبات رکھے۔ وہ مسلمانوں کے مادی مفادات کا میمورنڈم ان کے حوالے کرے۔ مسلم قائدین میں سے کوئی ایک بھی قائد نہیں جس نے ایسا

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page