Captain Javed is in command
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳
کیا ہو کہ وہ اپنی رات کی تنہائیوں میں پڑھ کر مسز اندرا گاندھی کی ہدایت کے لیے دعا کرے۔ صبح کو اٹھ کر وہ دو رکعت صلوٰۃ الحاجہ پڑھے اور رو رو کر اللہ مدد کی درخواست کرے۔ اس کے بعد وہ قرآن کا ترجمہ لے کر مسز اندرا گاندھی کے یہاں جائے اور درد و سوز کے انداز میں ان سے گفتگو کر کے انہیں خدا کی کتاب پیش کرے۔ مسلمان قائدین نے ایسا نہیں کیا۔ یہاں تک کہ مسز اندرا گاندھی اس دنیا سے چلی گئیں۔
مسلم قائدین کی اس کوتاہی کو صرف کوتاہی یا غلطی کہنا مسئلہ کی اہمیت کو گھٹانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دور جدید میں ان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ اور یہ وہ جرم ہے جس میں ہمارے تمام اصاغر اور اکابر یکساں طور پر شریک ہیں ۔
۲۲ اپریل 1986 کو انڈین ایئر لائنز (460 IC) کے ذریعہ بھوپال سے دہلی واپسی ہوئی۔ جہاز کے اندر اعلان کے دوران کہا گیا :
Captain Javed is in command
کپتان جاوید اس جہاز کے پائلٹ ہیں ) دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس جہاز کے ذریعہ میں بھوپال سے دہلی آیا اس کے اڑانے والے ایک مسلمان تھے ۔ اس طرح کے واقعات آج ہندوستان کے ہر شعبہ میں موجود ہیں اور لوگوں کے علم میں آتے ہیں مگر کوئی نہیں جو ان کو قابل ذکر سمجھتا ہو۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے والے اور تمام بولنے والے صرف اس "جاوید" سے واقف ہیں جو کسی وجہ سے سرکاری سروس میں پہنچنے میں ناکام ہو گیا ہو ۔ وہ اس " جاوید" سے واقف نہیں جو اعلیٰ سرکاری سروس میں ہے اور اس کو وہی تمام حقوق حاصل ہیں جو کسی دوسرے ہندوستانی شہری کو حاصل ہو سکتے ہیں ۔
اجتماع کے بعد بھوپال سے کچھ خطوط ملے ہیں ۔ ان میں سے ایک خط کو یہاں نقل کیا جاتا ہے ۔ آپ کے پروگرام میں جو دیشیتاپائی وہ اسلام بنام پرم پرا، یا دھرم بنام پرم پرا واد نہیں ہے۔ آج کا انسان سائنٹفک دور سے گزر رہا ہے جس میں پرم پرا واد دم توڑ چکا ہے ۔ دھرم کے پرانے ٹھیکیدار مُردے سے گھوڑے کو کوڑے مار مار کر کب تک زندہ رکھ سکیں گے ، اس پر نظریں اٹھنے لگیں تھیں ۔ ایشور کی کرپا سے دھار مک جگت میں ایک ستارہ نظر آیا ہے اور وہ ستارہ آپ ہیں جس کی وجہ سے جوویکوم پیدا ہو چلا تھا اس بھونچال کے لاوے میں دب گیا ہے۔ آج کی زندگی کا ہر پہلو پیاسا ہے اور وہ پیاس تب
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues