قیمت میں اضافہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۴
کے لٹریچر یا بھاشن میں کیوں اسلام ہی نہیں سب مذہبوں کی روحیں زندہ رہیں ، ایساندیش ملتا ہے جب روحیں زندہ ہو جائیں گی تب پنڈت واد ختم ہو جائے گا ۔ اور جب پنڈت واد ختم ہو جائے گا تب دھرم داد کے کھلے درشن ہو جائیں گے ۔
شری برج کشور ایڈوکیٹ ہندو پریشد کے سکریٹری نے فرمایا کہ ہم انگور کھاتے ہیں گر پیس کہنے والوں سے لڑ بیٹھتے ہیں ۔ حضرت مولانا نے اپنے بھاشن میں ہماری آنکھیں بند کرو اکر منہ میں دانا رکھ دیا اور فرمایا منہ بند کیجئے ہم نے منہ بند کیا تو وہی انگور کا رس ، مٹھاس ٹھنڈک سب موجود تھے۔ مولانا صاحب نے کہا یہ وہی گر پیس ہیں ۔ جس کو آپ کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھے تھے " پریم نارائن گپتا ایڈوکیٹ ، بھوپال بھوپال سے واپسی کے بعد " برطانیہ میں اسلام " کے بارہ میں ایک رپورٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ اس میں پہلی بار یہ خبر پڑھی کہ برطانیہ کی سب سے قدیم مسجد جو وکنگ میں ہے ، وہ بھوپال کی خاتون نواب سلطان جہاں بیگم کی طرف سے 1890 میں تعمیر کرائی گئی تھی ۔
بھوپال ہندوستان کی نسبتاً ایک چھوٹی ریاست تھی ، مگر اس کے حکمرانوں کی عالی ہمتی نے ان سے بڑے بڑے کام لے لیے ۔ اس دنیا میں بڑے کام اکثر بڑے دل والے لوگ کرتے ہیں نہ کہ بڑے وسائل والے لوگ ۔
قیمت میں اضافہ
سابقہ اعلان کے مطابق الرسالة اردو اور انگریزی کی قیمت میں جنوری ، ۱۹۷۸ سے اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جنوری ۱۹۷۸ سے الرسالة کی قیمتیں حسب ذیل ہوں گی۔ فی شماره چار روپیہ سالانہ ۴۸ روپیہ اسی نسبت سے ایجنسی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues