توحید اور شرک
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۵
توحید اور شرک
انسانوں میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک خدا کی سطح پر جینے والا۔ دوسرا غیر خدا کی سطح پر جینے والا۔ پہلا انسان مذہب توحید پر ہے اور دوسرا انسان مذہب شرک پر۔ پہلے انسان کا نام موحد ہے اور دوسرے انسان کا نام مشرک ۔
یہ فرق اس اعتبار سے پیدا ہوتا ہے کہ کون آدمی کس کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، کون آدمی کس کی عظمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہے، کون آدمی کس چیز کو اپنی زندگی میں آخری درجے دیئے ہوئے ہے۔ اسی نفسیاتی حالت کو مذہب کی اصطلاح میں عقیدہ کہا جاتا ہے یہی عقیدہ کا فرق ایک انسان کو دوسرے انسان سے الگ کر دیتا ہے ۔ ایک قسم کے عقیدہ والا خدا پرست بن جاتا ہے اور دوسرے قسم کے عقیدہ والا غیر خدا پرست ۔
جو انسان خدا کے عقیدہ پر ہو وہ خدا کی بڑائیوں میں جینے والا انسان ہوتا ہے۔ اس کی محبتیں اور اس کے اندیشے خدا سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس کی یادوں میں خدا کا وجود مایا ہوتا ہے، وہ خدا کی آنکھ سے دیکھتا ہے، وہ خدا کے کان سے سنتا ہے اور خدا کے ذہن سے سوچتا ہے ، اس کے تمام اقوال اور افعال پر خدا کا رنگ چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ جس چیز کو چھوڑتا ہے خدا کے لیے چھوڑتا ہے ، وہ جس چیز کو اختیار کرتا ہے خدا کے لیے اختیار کرتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے خدا میں جینے والا انسان بن جاتا ہے ۔
جو انسان شرک کے عقیدہ پر ہو اس کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ اس کے ذہن میں دوسری دوسری چیزوں کی عظمتیں سمائی ہوئی ہوتی ہیں۔ یہ دوسری چیزیں خواہ سورج اور چاند ہوں ، خواہ وہ مقرب و منہ روحهیں ہوں، خواہ وہ قوم کے بزرگ اور اکابر ہوں، خواہ وہ اس کی اپنی ذات یا اس کے بیوی بچے ہوں۔ ایسے انسان کا ذہن ہمیشہ انہیں غیر خدائی چیزوں پر چلتا ہے ، وہ انھیں کی یادوں میں تربیت پاتا ہے۔ اس کے حوصلے اور عزائم ہمیشہ انھیں چیزوں کے گرد گھومتے ہیں۔ اس کا غم اور اس کی خوشی سب انھیں چیزوں سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ یہی چیزیں اس کی زندگی کا رخ متعین کرتی ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues