اسلام کی آفاقیت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۳
پار کر کے ساری دنیا تک وسیع ہوگئی۔ اس کے بعد کوئی پہاڑ نہ رہا جو ان کی نظر کو روکے اور کوئی سمندر نہ رہا جو ان کے سفر میں حائل ہو۔
اسلام نے عربوں کے اندر جب آفاقیت پیدا کی تو ان کا یہ حال ہوا کہ قبیلہ کی سرداری پر فخر کرنے والے لوگ عالم کے امام بن گئے ۔ ان کے اندر ابن سینا اور الرازی جیسے ماہرینِ طب پیدا ہوئے جن کی طبی کتابوں کے یورپ کی زبان (لاطینی) میں ترجمے ہوئے اور یورپ کے میڈیکل کالجوں میں وہ بطور نصاب داخل کی گئیں۔ ان میں الادریسی جیسا جغرافیہ داں پیدا ہوا جس نے سسلی کے بادشاہ راجر دوم کے لیے سب سے پہلا دنیا کا نقشہ بنایا، ان میں ایسے ماہرینِ صنعت پیدا ہوئے کہ انگلینڈ کے بادشاہ اوفا رکس نے اپنے یہاں سونے کا سکہ ڈھالنے کے لیے بغداد سے سکہ گر بلائے۔
انھوں نے فنِ جہاز رانی میں اتنی ترقی کی کہ ان کے یہاں احمد بن ماجد جیسا شخص پیدا ہوا جس نے واسکوڈی گاما کی بحری رہنمائی کی جو پندرھویں صدی عیسوی کے آخر میں یورپ اور ہندوستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت کرنے کے لیے نکلا تھا۔ ان کے یہاں ابو عبیدہ مسلم البلنسي جیسے زمینی علوم کے ماہر پیدا ہوئے جن کی تحقیقات کو پڑھ کر کولمبس کے اندر یہ خیال پیدا ہوا کہ یہاں کچھ اور بھی دنیائیں ہیں جن کو دریافت کرنا چاہیے۔ چنانچہ اسی شعور اور حوصلہ کے تحت وہ یورپ کے ساحل سے روانہ ہوا اور آخر کار نئی دنیا (امریکہ) کو دریافت کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام ایک کائناتی دین اور ایک آفاقی نظریہ ہے اور اسلام کی بنیاد پر بننے والی تاریخ اس کی تائید کرتی ہے۔ اسلام کی آفاقیت صرف نظریاتی چیز نہیں، وہ ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے ۔
اسلام کے آفاقی اصولوں کا بہت اچھا اظہار اس واقعہ میں ہے جس کا تعلق ربعی بن عامر اور رستم (ایرانی سپہ دار) سے ہے۔ عرب جب قدیم ایران میں داخل ہوئے اور ایرانیوں کو ہر جگہ ان کے مقابلہ میں شکست کھانی پڑی ، تو رستم نے ربعی بن عامر کو اپنے دربار میں بلایا۔ رستم اس وقت ایرانی افواج کا سپہ سالار تھا۔ رستم اپنے شاندار دربار میں سونے اور جواہرات کا تاج پہنے ہوئے عالی شان تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اور ربعی بن عامرؓ بالکل معمولی کپڑے اور معمولی حالت میں تھے۔ رستم نے پوچھا کہ تم لوگ ہمارے ملک میں کیوں آئے ۔ ربعی بن عامرؓ نے جواب دیا :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues