اسلام کی آفاقیت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴
الله ابتعثنا والله جاء بنا لنخرج من شاء من عبادة العباد الى عبادة الله ومن ضيق الدنيا الى سعتها ومن جور الاديان الى عدل الاسلام - اللہ نے ہم کو بھیجا ہے اور اللہ ہم کو یہاں لے آیا ہے تاکہ جس کے بارہ میں وہ چاہے اس کو بندوں کی بندگی سے نکال کر خدا کی بندگی میں داخل کریں اور دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کو اس کی وسعت میں پہونچا دیں اور مذاہب کی زیادتیوں سے چھٹکارا دے کر اس کو اسلام کے عدل و انصاف میں لے آئیں ۔
ربعی بن عامر نے اپنے اس قول میں نہایت مختصر طور پر مگر نہایت فصاحت کے ساتھ اسلام کے آفاقی اصولوں کو بیان کر دیا ہے ۔
اسلام کی تعلیمات کی بنیاد پر جب ایک شخص کے اندر فکری انقلاب آتا ہے تو وہ مخلوقات سے گزر کر خالق کو پالیتا ہے ۔ وہ کائنات کے مالک کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے جو تمام تنگیوں اور محدودیتوں سے بلند ہے ۔ اس سے پہلے وہ بندوں کی سطح پر جی رہا تھا ، اب وہ خدا کی سطح پر جینے لگتا ہے جو تمام آفاق سے اوپر ہے ۔ اس سے پہلے اگر وہ ایک خول کے اندر تھا تو اب وہ خول کے باہر کی وسیع دنیا میں اپنے لیے زندگی کے مواقع پالیتا ہے ۔
عام حالت میں آدمی بندوں میں اٹکا ہوا ہوتا ہے ۔ وہ اپنے ہی جیسے انسانوں کی طرف متوجہ رہتا ہے ۔ وہ بس اپنے قدموں کے نیچے کی زمین کو جانتا ہے ۔ مگر جب وہ خدا کو پا تا ہے اور خدا کا عبادت گزار بنتا ہے تو وہ انسانوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے ۔ انسانی دوستیاں اور دشمنیاں اس کی نظر میں حقیر بن جاتی ہیں ۔ وہ انسانی شکایتوں اور انسانی محبتوں سے گزر جاتا ہے ۔ اس کی روح لا محدود پنہائیوں میں سفر کرنے لگتی ہے جہاں چھوٹی چھوٹی چیزوں میں الجھنے کا کوئی سوال ہی نہیں ۔
خدا کو پانے سے پہلے آدمی دنیا کی محدودیتوں میں گم رہتا ہے ۔ خدا کو پانے کے بعد وہ دنیا کی محدودیتوں سے آگے نکل جاتا ہے ۔ وہ اپنی آرزوؤں اور اپنے حوصلوں کی تسکین کے لیے بلند تر سطح پالیتا ہے ۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں کھونا بھی پانا بن جاتا ہے ۔ جہاں ناخوش گواریاں بھی خوش گواریوں میں ڈھل جاتی ہیں ۔ جہاں غم بھی اتنا ہی اہم بن جاتا ہے جتنا خوشی اور مسرت ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues