ہم تو جائیں گے، ہم کو فائدہ ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۵
سیاست کا طریقہ چھوڑ دیں اور خاموش تعمیر کا طریقہ اختیار کریں۔ اس کے لیے میں نے اکابر ملت ملاقاتیں کیں۔ ان سے خط و کتابت کی۔ تحریروں کے ذریعہ مسلسل انہیں متوجہ کیا۔ اور دلائل اور مثالوں سے اس کو اس حد تک واضح کر دیا کہ کسی کے پاس اس کی تردید میں کہنے کے لیے کچھ نہیں۔ اس کے باوجود کوئی مسلم رہنما اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہاں بھی اصل سبب وہی ہے جس کا نمونہ دیہاتی مسلمان کے واقعہ میں نظر آتا ہے۔ ہر رہنما گویا زبانِ حال سے یہ کہہ رہا ہے :
ہم جذباتی سیاست چلائیں گے، اس سے ہم کو فائدہ ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی صحافت اور قیادت دونوں فسادات کے اوپر قائم ہیں۔ اس ملک میں اگر فرقہ وارانہ فسادات ختم ہو جائیں تو اسی کے ساتھ اس ملک کی مسلم صحافت اور مسلم قیادت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ اردو کے ایک تجربہ کار صحافی جناب ساجد رشید نے اسی بات کو ان الفاظ میں لکھا ہے :
" اردو کے بیشتر اخبارات کا محبوب موضوع فساد ہے ، اور وہ بھی صرف ہندو مسلم فساد۔ اردو اخبارات فساد کی خوفناک خبروں کے بغیر نیا شمارہ چھاپنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے نوجوان مدیر نے ایک بار مجھ سے کہا : "بھائی، کہیں پر ایک آدھ فساد ہو جائے تو اخبار کی اشاعت بڑھ جائے ۔ " بیشتر اردو صحافی آج اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ کسی بھی اردو ہفت روزہ کو اٹھا کر دیکھ لیجیے، وہ مسلمانوں کی کچھ ایسی تصویر کشی کرے گا گویا اس سے زیادہ مظلوم قوم کوئی دوسری نہیں۔ اس میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ مسلمان اس دیس کی فرقہ وارانہ آگ کا ایندھن ہیں۔ لیکن اردو کے صحافی اس کو جس ڈھنگ سے پیش کرتے ہیں، اس سے مسلمانوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مسلمان خود کو بے حد مظلوم اور غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اس قسم کا جذبہ آدمی کی خود اعتمادی اور قوت ارادی کو اس بری طرح متاثر کرتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس منطق سے غور کریں تو پتہ چلے گا کہ بیشتر اردو اخبارات ایک پوری قوم کو مفلوج کرنے کی خطرناک سازش میں غیر محسوس طریقے سے ملوث ہیں! " (روزنامہ اردو ٹائمز، بمبئی ، ۱۴ ستمبر ۱۹۸۶ء)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues