Al-Risala · December 1986 · page 26

ایک تقریر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۶

ایک تقریر

وقت میری گفتگو کا موضوع خدا اور خدا کی وحدت کا موضوع ہے ۔ یہ موضوع بلاشبہ میرا سب سے زیادہ پسندیدہ موضوع ہے۔ زمین و آسمان گواہ ہیں کہ میں سب سے زیادہ توحید کے موضوع پر سوچتا ہوں ۔ میں سب سے زیادہ خدا کی باتوں میں گم رہتا ہوں ۔ مگر قرآن میں آیا ہے کہ اِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (جب اللہ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں) اور فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَ خَرَّ مُوسَى صَعِقًا (جب اللہ نے پہاڑ پر اپنی تجلی کی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا) خدا تو وہ ہے جہاں زبانیں بند ہو جاتی ہیں ، پھر خدا اس کے بارے میں بولا جائے تو کیا بولا جائے ۔ خدا تو وہ ہے جس کے سامنے آتے ہی نگاہیں خیره ہو جاتی ہیں۔ پھر اس کے مشاہدہ کو بیان کیا جائے تو کس طرح بیان کیا جائے ۔ خدا تو وہ ہے کہ جب وہ اترتا ہے تو جہاں وہ اترتا ہے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ، پھر کہاں سے وہ دل لایا جائے جو خدا جیسی ہستی کا چرچا کر سکے ۔

خدا میرے لیے صرف ایک رسمی عقیدہ نہیں ، خدا میری دریافت ہے۔ خدا کو میں نے دیکھا ہے ۔ خدا کو میں نے چھوا ہے ۔ بخدا میری مثال صحرائے سینا کے اس پہاڑ کی ہے جس پر خدا اترا اور اس نے اس کی ہستی کے ریزے ریزے کر دیئے ۔ ایسے ایک انسان کے لیے خدا پر بولنا کوئی آسان کام نہیں ۔ ایسے ایک انسان کے لیے خدا کا بکھیان کرنا عام تقریروں کی طرح صرف ایک تقریر کر دینے کی بات نہیں ۔

غالباً ۲۵ سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت میں اعظم گڑھ (یوپی) میں تھا۔ وہاں ایک صاحب (شاہ نصیر احمد) نے مجھ سے پوچھا : "کیا انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے ، میری زبان سے فوراً یہ الفاظ نکلے : "کیا آپ نے ابھی تک خدا کو نہیں دیکھا"۔ اس میں کوئی شک نہیں که خدا سورج اور چاند سے زیادہ نمایاں ہے ۔ یہ آنکھ اسی لیے دی گئی ہے کہ وہ خدا کو دیکھے ۔ یہ دماغ اسی لیے دیا گیا ہے کہ وہ خدا کا ادراک کرے۔ بخدا وہ آنکھ بے نور ہے جس کو خدا دکھائی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page