Al-Risala · January 1986 · page 5

امکان ختم نہیں ہوتا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۵

تھا کہ دمشق اور قرطبہ کے درمیان ایک پیغام کے آنے جانے میں اکثر مہینوں لگ جاتے تھے ۔ اسی بنا پر اندلس کے اوپر دمشق کی مضبوط گرفت باقی نہیں رہی تھی ۔

اندلس کے یہ حالات عبدالرحمن بن معاویہ کے لیے ایڈوانٹیج بن گئے ۔ وہ آبنائے جبلٹار کو پار کر کے اندلس پہنچا۔ وہاں کے مسلمانوں کو ایک سردار کی ضرورت تھی۔ عبدالرحمن اپنی شخصی قابلیت نیز بنو امیہ کا ولی عہد ہونے کی وجہ سے بہت جلد وہاں کے لوگوں کا مرجع بن گیا اور بالآخر اس نے اندلس میں مضبوط مسلم سلطنت قائم کی۔ یہی امیر عبدالرحمن اندلس کی علمی اور تہذیبی ترقیوں کا بانی ہے ۔ وہ شخص جس کی تاریخ دمشق میں ختم ہو چکی تھی اس نے اپنی حوصلہ مندی کی بنا پر قرطبہ میں اپنی ایک نئی شاندار تاریخ بنائی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کبھی کسی کے لیے امکان ختم نہیں ہوتا۔ جہاں ایک موقع ختم ہو وہیں دوسرا زیادہ بہتر موقع اس کے لیے موجود رہتا ہے۔ جب ایک تار اختتام پر پہونچتی ہے تو وہیں دوسری تاریخ کے آغاز کے امکانات شروع ہوجاتے ہیں ۔

مگر نئے امکانات کبھی اپنے آپ واقعہ نہیں بنتے۔ ان کو استعمال کر کے انہیں واقعہ بنانے کے لیے ایک حوصلہ مند انسان کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر آدمی اپنی ہمت نہ کھوئے، اگر وہ نئی جدوجہد کی ضروری شّرطیں پوری کرنے کے لیے تیار ہو تو اس کے لیے ناکامی کا سوال نہیں۔ یہ دنیا خدا نے اسی لیے بنائی ہے کہ آدمی یہاں جدوجہد کر کے کامیاب ہو۔ اب جو شخص ناکام ہوتا ہے وہ اپنی نادانیوں سے ناکام ہوتا ہے، وہ خود اپنی کوتاہیوں کی سزا بھگتتا ہے ۔

"انسان کے لیے کبھی امکان ختم نہیں ہوتا" یہ جملہ اتنا ہی بامعنی ہے جتنا یہ کہنا کہ " اس دنیا میں کبھی صبح کا آنابند نہیں ہوتا " جس طرح ہر رات کے بعد صبح کا آنا یقینی ہے اسی طرح ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کامیابی کا دور آنا یقینی ہے۔ تاہم رات کے بعد نئی صبح لانے کے لیے زمین و آسمان کو عظیم گردش کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح کسی آدمی کی زندگی میں ناکامی کے بعد کامیابی اس وقت آتی ہے جب کہ وہ اس کی خاطر عظیم جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page