جو بولا وہ نہیں بولا، جو چپ رہا وہی بولا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۳
دنیا کی ہر چیز متحرک ہے ۔ وہ خاموش ہو گئے ۔
اجتماع کے بعد کچھ نوجوانوں نے آٹوگراف لیا ۔ میں نے ایک صاحب کی بُک پر یہ جملہ لکھ دیا :
جو بولا وہ نہیں بولا، جو چپ رہا وہی بولا
پٹنہ کے ایک صاحب سے میں نے کہا کہ پٹنہ روایتی طور پر اہل علم کا شہر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ " اہل علم کا نہیں بلکہ اہل شعر کا " اس میں شک نہیں کہ یہاں بہت سے شعرا پیدا ہوئے ۔ اور یہاں مشاعرے ہوتے ہیں تو ان میں سامعین کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سائنس کا دور ہے اور سائنس کے دور میں شاعری کرنا ایک قسم کی خلاف زمانہ حرکت (Anachronism) ہے۔ چنے کی دال پر نقل ہو اللہ لکھنا ایک آرٹ ہو سکتا ہے مگر اس کا عملی فائدہ کیا ہے ۔ اسی طرح ردیف و قافیہ کی زبان میں باتیں کہنے سے کچھ لوگ وقتی طور پر محظوظ ہو سکتے ہیں مگر کیا اس طرح کی شاعری سے یہ ممکن ہے کہ کوئی قوم دور جدید میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ پالے۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں ہمارے ساتھ تعصب کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سب سے بڑا فریب ہے جس میں اس ملک کے مسلمان مبتلا ہیں اور ہمارے تمام اصاغر و اکابر مسلسل یہی ذہن مسلمانوں میں پیدا کر رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ " تعصب " کہتے ہیں وہ دراصل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ فرض کیجئے کہ آپ کے دو بیٹے ہیں۔ ایک بیٹا عرب میں جاکر دس ہزار روپیہ مہینہ کما رہا ہے ، دوسرا بیٹا گھر پر پڑا ہوا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا ۔ کیا دونوں بیٹوں کا مقام گھر کے اندر یکساں ہو گا۔ انھوں نے کہا نہیں ۔ میں نے کہا کہ گھر میں بے کار پڑا رہنے والا بیٹا اگر کہے کہ میرے ساتھ تعصب کیا جاتا ہے ۔ تو کیا آپ اس کو مانیں گے۔ انھوں نے کہا نہیں ۔ میں نے کہا کہ یہی معاملہ اس ملک میں مسلمانوں کا ہے ۔ آپ دکان سے کار ہٹا کر اپنے ٹکے من کی قیمت ادا کر رہا ہے ۔ اسی طرح اس ملک کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues