Al-Risala · December 1986 · page 34

جو بولا وہ نہیں بولا، جو چپ رہا وہی بولا

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۴

تعلق تعصب یا فرقہ واریت سے نہیں ۔

مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے شاعروں اور خطیبوں نے انہیں جھوٹے فخر میں مبتلا کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ زندگی کی حقیقتوں سے بے خبر ہو کر رہ گئے۔ آپ مسلمانوں کو حقیقت پسند بنا دیجئے اور اس کے بعد اس ملک میں ان کے لیے کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ ایم ٹی خان سے کسی صاحب نے کہا کہ ارسال والے تو صرف مرض کی نشاندہی کرتے ہیں ، وہ اس کا حل نہیں بتاتے ۔ اس سے کیا فائدہ ۔ ایم ٹی خان نے کہا کہ آپ سمجھے نہیں ایک شخص کی صحت خراب ہے ۔ وہ ڈاکٹر سے ملتا ہے ، ڈاکٹر اس کا جائزہ لے کر کہتا ہے کہ تم اینمک ہو۔ یہ صرف مرض بتانا نہیں ہے ، یہ علاج بھی ہے۔ کسی شخص سے یہ کہنا کہ تم اینمک ہو ، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر ہیمو گلوبن کم ہے۔ اس لیے وہ چیزیں استعمال کرو جس سے ہیموگلوبن کی پیدا وار بڑھتی ہے۔ مریض اگر اتنا باشعور نہیں ہے تو اس کے لیے ڈاکٹر کا نسخہ بھی مفید نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے کہا کہ ہر کام میں شروع شروع میں مشکل پیش آتی ہے ۔ مگر یہ ایک قسم کا دانت نکلنے کا درد (Teething trouble) ہے۔ دانت نکلنے کے وقت ہمیشہ تکلیف ہوتی ہے مگر یہ تکلیف وقتی ہوتی ہے۔ آپ اس کو برداشت کر لیں تو وقت گزرنے کے بعد وہ اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ باتیں تو بہت اچھی کہتے ہیں مگر کوئی عملی پروگرام پیش نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ موجودہ حالت میں " عملی پروگرام پیش کرنا قوم کے ساتھ غداری کرنا ہے ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آدمی قوم کو بیوقوف بنا کر اس کے اوپر لیڈری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ میں خدا کے فضل سے ایسا کر سکتا ہوں کہ ایک خوش نما پرو گرام بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کر دوں۔ لیکن موجودہ حالت میں میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ مجھے یہ پسند ہے کہ میں قبر میں دفن ہو جاؤں۔ مگر مجھے یہ پسند نہیں کہ ایک ایسی قوم کے سامنے " عملی پروگرام پیش کروں جس کے پاس بے شعوری کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں ۔

میں نے کہا کہ عملی پروگرام اس وقت پیش کیا جاتا ہے جب کہ نظری پر وگرام قابل لحاظ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page