جو بولا وہ نہیں بولا، جو چپ رہا وہی بولا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۵
حد تک کامیابی کے درجہ کو پہنچ چکا ہو۔ جب قوم فکر و شعور کے اعتبار سے ضروری حد تک تیار ہو چکی ہوتی ہے ، اسی وقت اس کو عملی پروگرام دیا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے سارا زور صرف تعمیر شعور پر صرف کیا جانا چاہیے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہم سب سے زیادہ زور اس پر دیتے ہیں کہ الرسالہ کی اشاعت بڑھائی جائے ۔ اس کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہونچایا جائے ۔ الرسالہ تعمیر شعور کی مہم ہے اور یہی اس وقت ہمارا سب سے بڑا پروگرام ہے ۔
میں ایک صاحب کے مکان پر بیٹھا ہوا تھا ۔ سامنے کی سڑک پر ایک گائے والا گائے لے کر نکلا ۔ میں نے کہا کہ اس گائے کو دیکھیے ۔ یہ خدا کا ایک زندہ کار خانہ ہے ۔ خدا نے اس کو دودھ دینے کے لیے بنایا ہے ۔ مگر وہ دودھ کیسے دیتی ہے ۔ وہ گھاس کو دودھ میں کنورٹ (تبدیل) کرتی ہے ، تبھی وہ دودھ دینے والی بنتی ہے ۔ خدا کو ایسی گائے مطلوب نہیں ہے جو دودھ پی کر دودھ دے ۔ بلکہ اس کو ایسی گائے مطلوب ہے جو غیر دودھ کھائے اور پھر اس کو تبدیل کر کے دودھ کی شکل میں باہر لائے ۔ میں نے کہا کہ گائے کی یہ ساخت خود خدا کی بنائی ہوئی ہے ۔ اس طرح "گائے" گویا خدا کی پسند کا ایک مظاہرہ ہے ۔ وہ عمل کی زبان میں انسانوں سے کہہ رہی ہے کہ تم بھی ایسے ہی بنو ۔ تمہارے کان میں برے الفاظ داخل ہوں مگر وہ تمہاری زبان سے اچھے الفاظ بن کر نکلیں ۔ لوگ تمہیں ستائیں مگر تمہارے دل سے ان کے لیے دعائیں نکلیں ۔ لوگ تمہارے ساتھ برا سلوک کریں مگر تم سے انھیں اچھے سلوک کا تجربہ ہو ۔ پھر اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی تعمیر کے معاملہ میں مسلمانوں کا طریقہ کیا ہونا چاہیے انھیں خدا کی دنیا میں زندہ رہنے کے لیے یہ ثبوت دینا ہو گا کہ وہ "گھاس" کو "دودھ" میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔ وہ مشکل کو اپنے لیے آسان بنا سکتے ہیں ۔ وہ کم تر ذرائع سے ایک برتر دنیا کی تعمیر کر سکتے ہیں ۔
اس واقعہ کے بعد میں نے سوچا کہ یہی وہ چیز ہے جس کو تزکیہ (یا اسلامی تربیت) کہا جاتا ہے ۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا ۔ چنانچہ ایک صحابی کہتے ہیں کہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues