جو بولا وہ نہیں بولا، جو چپ رہا وہی بولا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۶
ایک چڑیا بھی فضا میں پر نہیں پھڑپھڑاتی تھی کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کسی علم کی یاد دہانی کرتے تھے (ما من طائر يقلب جناحيه فى الهواء الا وهو يذكر لنامنه علماً)
بعد کے زمانہ میں "سلوک" کے نام سے جو مشقی کورس بنائے گئے وہ سراسر بدعت تھے۔ اس قسم کے مشقی کورسوں سے کبھی وہ افراد تیار نہیں ہو سکتے جو اسلام میں مطلوب ہیں۔ مسلمانوں کا ایک عجیب مزاج یہ ہے کہ جب حقیقت ان سے کھوئی گئی ہو تو وہ الفاظ کے گلدستے بنا لیتے ہیں اور ان کو بول کر خوش رہتے ہیں۔ پٹنہ کے مسلمان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انھوں نے بطور خود پٹنہ کا ایک اور نام اختیار کر رکھا ہے جو ان کی خواہشات کے مطابق ہے ۔ یہ نام ہے ـــــــــ عظیم آباد ۔ مسلمان اکثر پٹنہ کو پر فخر طور پر عظیم آباد کہتے ہیں ۔ اسی طرح دہلی کے مسلمان دہلی کو شاہ جہاں آباد اور کشمیر کے مسلمان اننت ناگ کو اسلام آباد کا نام دیئے ہوئے ہیں ۔ یہ خوش قسمتی کی عجیب و غریب قسم ہے جو مسلمانوں کے حصہ میں آئی ہے ۔ جو چیز انھیں عملی طور پر حاصل نہ ہو، اس کو وہ ایک دل پسند لفظ بول کر خیالی طور پر حاصل کر لیتے ہیں ۔
پٹنہ بہار کی راجدھانی ہے ۔ مگر سڑکوں پر جگہ جگہ گندگی اس طرح نظر آئی جیسے یہاں کے منتظمین کو صفائی کا کوئی شعور ہی نہیں ۔ مگر جب میں " وی آئی پی ایریا " سے گزرا تو میری غلط فہمی ختم ہو گئی ۔ وزیروں اور بڑے بڑے عہدیداروں کے رہائشی علاقہ میں صفائی ستھرائی کا پورا اہتمام نظر آیا ۔ گویا یہاں کے منتظمین کے اندر صفائی کا شعور ہے مگر وہ صرف اپنے لیے ہے نہ کہ شہر کے لیے ـــــــــ آج ملک کی سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ یہاں ذاتی غرض کو برتر حیثیت حاصل ہے نہ کہ اصول کو ۔
یہاں آٹھ ماہ پہلے مسلمانوں کا ایک جلوس نکلا تھا ۔ اس میں فائرنگ ہوئی اور کئی لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ انھیں میں ایک مسلم نوجوان تھے جن کے پاؤں میں گولی لگی اور وہ پچھلے آٹھ مہینے سے اسپتال میں ہیں ۔ اور ابھی غالباً مزید آٹھ ماہ تک انھیں اسپتال میں رہنا ہوگا ۔ ان کو دیکھنے کے لیے میں اسپتال گیا ۔ ان کے پاؤں میں پلاسٹر بندھا ہوا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues