جو بولا وہ نہیں بولا، جو چپ رہا وہی بولا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۷
تھا اور وہ بستر پر لیٹے ہوئے تھے ۔ ان دیکھ کر دل سے دعائیں نکلیں ۔ آخر میں میں نے انھیں ایک جملہ لکھ کر دیا جو یہ تھا :
زندگی اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کو مقصد اعلیٰ سے کم تر کسی چیز میں استعمال کیا جائے ۔
۱۳ جولائی کو دن میں ۱ بجے مدرسہ شمس الہدی (قائم شده ۱۹۱۲) کے ہال میں اجتماع ہوا۔ یہاں بھی ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ تقریر کا موضوع تھا : دورِ جدید میں مسلمانوں کا پچھڑاپن اور اس کا حل ۔ لوگ انتہائی انہماک کے ساتھ آخر تک تقریر سنتے رہے ۔ شہر کے معززین کی بھی بڑی تعداد ڈائس پر موجود تھی ۔
تقریر کے بعد مختلف لوگوں کے تاثرات معلوم ہوئے ۔ لوگ غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے اور تقاضا کیا کہ مزید قیام کریں یا دوبارہ پٹنہ کا پروگرام بنائیں ۔ پچھلے ایک سال کے اندر مجھے ہندوستان کے کئی شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے ۔ ان سفروں میں جو اجتماعات ہوئے اور جتنی کثرت سے لوگ ”الرسالہ کی آواز سننے کے لیے جمع ہوئے ، اس کے بعد میری قطعی رائے یہ ہو چکی ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا ذہین طبقہ اب سب سے زیادہ الرسالہ کی تحریک کا مطالعہ کر رہا ہے ۔ ہر شہر میں ذہین اور تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد جس کثرت سے جمع ہوئی اس کے بارہ میں عام تاثر یہ تھا کہ کسی بھی دوسری آواز کو سننے کے لیے تعلیم یافتہ طبقہ اتنی بڑی تعداد میں جمع نہیں ہوتا ۔ کوئی شخص ایک جذباتی اشتعال اٹھا کر عوام کی بھیڑ جمع کر سکتا ہے ۔ مگر سنجیدہ اور تعلیم یافتہ طبقہ جتنی بڑی تعداد میں الرسالہ کی آواز کو سننے کے لیے جمع ہو رہا ہے ملک میں کوئی بھی دوسری آواز نہیں ہے جو سنجیدہ اور تعلیم یافتہ طبقہ کو اتنی بڑی تعداد میں جمع کر سکے ۔ دہلی اور پٹنہ کے درمیان تقریبا ایک ہزار کلومیٹر کی دوری ہے ۔ ہوائی جہاز سے یہ دوری صرف ڈیڑھ گھنٹہ میں پوری ہو جاتی ہے ۔ میں ۱۲ جولائی کی صبح کو دہلی سے پٹنہ گیا اور وہاں کئی پروگرام میں شرکت کر کے ۱۳ جولائی کی شام کو دوبارہ دہلی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues