جو بولا وہ نہیں بولا، جو چپ رہا وہی بولا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۸
واپس آگیا ۔ جب میں دہلی کے ہوائی اڈہ پر اترا تو میرا دل خدا کے احسان کے جذبہ سے سرشار تھا ۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ کیسی عجیب نعمت ہے کہ اس نے دور دراز سفروں کو اتنا آسان بنا دیا ہے ۔
۱۵۷۳ء میں شہنشاہ اکبر فتح پور سے گجرات گیا تھا۔ یہ سفر ایک جنگی مہم کے تحت تھا اور اس کے لیے شاہانہ سطح پر غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ تب بھی شہنشاہ اکبر کو اس سفر کے طے کرنے میں گیارہ دن لگ گئے۔ وہ روزانہ پچاس میل کا سفر طے کرتا تھا۔ قدیم مورخین اس تیز رفتار سفر کا ذکر نہایت حیرت کے ساتھ کرتے ہیں۔ کون جانتا تھا کہ چار سو سال بعد وہ وقت آنے والا ہے کہ اس سے زیادہ لمبے سفر اس سے زیادہ کم وقت میں انجام دیے جا سکیں گے ۔
واپسی میں ہوائی جہاز معمول کے مطابق اڑ رہا تھا کہ اچانک اعلان ہوا : Please fasten your seat belt. آپ اپنی کرسی کی پیٹی باندھ لیں ۔ چند منٹ بعد جہاز تیزی سے نیچے اور اوپر ہونے لگا۔ معلوم ہوا کہ اپ ڈرافٹ ، ڈاؤن ڈرافٹ (Updraft and downdraft) کا علاقہ آگیا ہے۔ ہوائی جہاز کے تربیت یافتہ عملہ کے لیے اس قسم کا تجربہ زیادہ پریشان کن نہیں ہوتا مگر ایک عام مسافر کے لیے یہ صورت حال سخت گھبرا دینے والی ثابت ہوتی ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ شاید اب ہوائی جہاز زمین پر گر کر تباہ ہونے والا ہے اور اسی کے ساتھ اس کے تمام مسافر بھی ۔
میں نے سوچا کہ ہوائی جہاز میں نیچے اوپر اپ ڈرافٹ، ڈاؤن ڈرافٹ ) کی کیفیت ہو تو لوگ ڈر جاتے ہیں کہ شاید ان کا آخری وقت آگیا۔ لیکن غور کیجیے تو آدمی کا اپنا معاملہ بھی یہی ہے ۔ ہر لمحہ آدمی کی ایک سانس اندر جاتی ہے اور ایک سانس باہر آتی ہے۔ جب آدمی کی ایک سانس اندر جاتی ہے تو یہ یقینی نہیں ہوتا کہ وہ پھر باہر آئے گی۔ اسی طرح جب اس کی ایک سانس باہر آتی ہے تو یہ یقینی نہیں ہوتا کہ وہ دوبارہ اندر جائے گی۔ ایسی حالت میں آدمی ہر آن اسی صورت حال سے دوچار ہے جس سے ہوائی جہاز
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues