جو بولا وہ نہیں بولا، جو چپ رہا وہی بولا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۹
کالمسافر کبھی دوچار ہوتا ہے ۔ اگر آدمی کا شعور زندہ ہو تو ہر لمحہ اس کو محسوس ہوگا کہ وہ اپ ڈرافٹ ، ڈاؤن ڈرافٹ کی کیفیت میں مبتلا ہے ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو ہوائی جہاز کے نیچے اوپر ہونے کے واقعہ میں خود اپنے نیچے اوپر ہونے کے واقعہ کو دیکھ لیں۔ اس سفر میں بہت سے لوگوں کے سوالات سامنے آئے اور حسب موقع میں نے ان کا جواب دیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ بہت سے لوگ آپ کی اور الرسالہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ نہ دیکھئے کہ لوگ مخالفت کرتے ہیں ، بلکہ یہ دیکھئے کہ جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں ان کی مخالفت کی بنیاد کیا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ تمام پیغمبر بلاشبہ حق پر تھے ۔ اس کے باوجود ان پیغمبروں کی سب سے زیادہ مخالفت کی گئی۔ حتیٰ کہ ان پر رکیک قسم کے اخلاقی الزام لگائے گئے ۔ اس کی تفصیل آج بھی پچھلے انبیاء کے بارے میں بائبل میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں تفسیر کی کتابوں میں موجود ہے ۔
پھر میں نے کہا کہ مخالفت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے بینہ (واضح دلیل) کی بنیاد پر کسی کی مخالفت کرنا۔ اور دوسری چیز ہے کسی کے خلاف عیب جوئی اور الزام تراشی کرنا۔ مثلاً پیغمبر کی دعوت توحید کی دعوت تھی ۔ اب پیغمبر کو بینہ کی بنیاد پر رد کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ کوئی شخص توحید کے نظریہ کو دلائل کے ذریعہ غلط ثابت کرتا ۔ مگر پیغمبر کے مخالفین نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس وہ پیغمبر کی ذات میں جھوٹے عیب نکال کر اس کو بدنام کرتے رہے ۔ اول الذکر قسم کی مخالفت یا تنقید کا حق ہر شخص کو ہے۔ مگر ثانی الذکر قسم کی مخالفت یا تنقید کا حق کسی کو نہیں ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وقال الذين كفروا لا تسمعوا لهذا القرآن والغوا فيه لعلكم تغلبون (۴۱: اس آیت میں والغوافیہ کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس نے عیَّبُوہ کے لفظ سے کی ہے ۔ یعنی اس پر عیب لگاؤ (تفسیر ابن کثیر)، اس تشریح کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہل کفر نے قرآن کی دعوت کو مغلوب کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ وہ قرآن پر اور صاحبِ قرآن (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پر عیب لگاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عیب جوئی کا طریقہ اہل کفر کا طریقہ ہے ، یہ مومن کا طریقہ نہیں ۔
اب آپ ہمارے مخالفین کو دیکھئے تو سب کے سب بلا استثناء وہی کام کر رہے ہیں جس کو
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues