اصل رکاوٹ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۶
اصل رکاوٹ
کہا جاتا ہے کہ اسلامی دعوت کے حق میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے پاس اسلامی اعمال والے لوگ نہیں ۔ عام انسان صرف مثال کے ذریعہ انقلابی تاثر قبول کرتا ہے نہ کہ علمی بحثوں اور عقلی دلیلوں کے ذریعہ ۔ مگر ہماری بے بسی یہ ہے کہ ہم مدعو سے یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ــــ دیکھو یہ ہے اسلامی انسان دیکھو یہ ہے اسلامی گھرانا ، دیکھو یہ ہے اسلامی جماعت ۔
یہ بات بظاہر نہایت درست معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ آدھی صداقت ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس قول کی کوئی قیمت نہیں جس کے ساتھ عمل کی مطابقت شامل نہ ہو۔ اس اعتبار سے داعی کو بلاشبہ با عمل ہونا چاہیے ۔ مگر یہ نہایت سادگی کی بات ہوگی کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ داعی اگر با عمل ہو تو تمام لوگ فوج در فوج اس کے ساتھتی بن جائیں گے ۔
یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ تمام انبیاء اپنے عمل کے اعتبار سے معیاری انسان تھے ۔ وہ بلاشبہ مثالی کردار کے حامل تھے ۔ پھر کیا ان نبیوں کو دیکھ کر سارے لوگ جوق در جوق ان کے مومن بن گئے ۔ قرآن بتاتا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہوا ۔ تمام نبیوں کے مخاطبین نے ان کا انکار کر دیا ۔ کردار و عمل کی تمام خوبیوں کے باوجود وہ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے (یس ۳۰)
حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو اختیار کرنے میں اصل رکاوٹ داعی کا عمل نہیں بلکہ مدعو کی مفاد پرستی ہے۔ داعی کی بات کو ماننے کے لیے لوگ اس لیے تیار نہیں ہوتے کہ اس کی بات ماننے سے لوگوں کی بڑائی ختم ہوتی ہے ۔ ان کی انا کا بت ٹوٹتا ہے ۔ ان کے مفادات اور مصلحتوں کا تانا بانا منتشر ہوتا ہے ۔ اپنی بنی بنائی زندگی کو توڑ کر از سر نو ایک نئے نقشہ پر زندگی کی تعمیر کرنی پڑتی ہے ۔ خاندانی روابط ، سماجی تعلقات اور قومی بندھنوں کا سارا ڈھانچہ بگڑ کر رہ جاتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ لوگ خود پرست ہیں ، اس لیے وہ خدا پرست بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہی حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ نسل انسانی کے سب سے بہتر اور مثالی افراد (انبیاء علیہم السلام) کا بھی لوگوں نے اعتراف نہیں کیا ، بلکہ حقارت کے ساتھ ان کو نظر انداز کر دیا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues