Al-Risala · February 1986 · page 21

قرآنی طریقہ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۱

قرآنی طریقہ

یا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ و اطیعوا اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی الرسول و اولی الامر منکم فان تنازعمتم اطاعت کرو اور اپنے میں سے اہل امر کی اطاعت فی شی ء فردوہ الی اللہ والرسول ان کرو۔ پھر اگر کسی چیز کے بارہ میں تمہارے درمیان كنتم تومنون بالله والیوم الآخر ذالك اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف خير و احسن تاویلا۔ الم تر الى الذين لوٹاؤ۔ اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان يزعمون انھم آمنوا بما انزل اليك و رکھتے ہو ۔ یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے ما انزل من قبلک يريدون ان يتحاكموا کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ رکھتے الى الطاغوت وقد امروا ان يكفروا ہیں کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جو تمہارے به ويريد الشيطان ان يضلهم اوپر اتری ہے اور اس پر بھی جو تم سے پہلے اتاری ضلالاً بعیدا (النار، ۶۰-۶۱) گئی ، وہ چاہتے ہیں کہ اپنا مقدمہ طاغوت کے پاس لے جائیں۔ حالاں کہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کا انکار کریں۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ وہ انہیں بھٹکا کر بہت دور کر دے۔

قرآن کی اس آیت کا ایک خاص پس منظر ہے جو تاریخ سے اور شان نزول کی روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ ہم اس کو یہاں مختصراً بیان کریں گے ۔

یہ آیت اسلامی تاریخ کے اس دور میں اتری جس کو مدنی دور کہا جاتا ہے ۔ مدینہ کے ابتدائی دور میں اسلام کا مکمل اقتدار قائم نہ تھا۔ اس زمانہ میں ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی جس کے پاس لوگ اپنے باہمی جھگڑوں کے فیصلے کے لیے آتے تھے۔ اسی کے ساتھ سابقہ روایت کے مطابق یہودی سرداروں کی گدیاں بھی اب تک قائم تھیں ۔ جو لوگ چاہتے وہ اپنے جھگڑے ان کے پاس لے جاتے اور ان سے اپنے معاملہ میں فیصلہ لیتے۔ گویا وہاں تقریباً وہی صورتِ حال موجود تھی جس کا ایک نقشہ موجودہ ہندوستان میں نظر آتا ہے ۔ ہندوستان میں ایک طرف اسلامی اداروں کے دار الافتاء

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page