Al-Risala · February 1986 · page 22

قرآنی طریقہ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۲

میں جن سے مسلمان اپنے قضیوں کے لیے رجوع کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہاں غیر مسلم عدالتیں ہیں جوان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرتی ہیں جو ان کے یہاں جائیں اور ان سے اپنے مقدمہ کا فیصلہ چاہیں ۔ سورہ نساء کی مذکورہ آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس کے سلسلہ میں تفسیر کی کتابوں میں مختلف قصے نقل کیے گئے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے متعدد واقعات مدینہ میں پیش آئے ۔ اس کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری ۔ ان میں سے ایک واقعہ کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں ۔ قدیم مدینہ میں بنو قریظہ اور بنو نضیر دو یہودی قبیلے تھے ۔ بنو قریظہ نسبتاً کمزور قبیلہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں بنو نضیر کو مال اور تعداد کے اعتبار سے زیادہ بڑی حیثیت حاصل تھی ۔ بنو نضیر نے اپنی برتر حیثیت سے فائدہ اٹھا کر یہ اصول مقرر کر لیا کہ اگر بنو قریظہ کا ایک آدمی بنو نضیر کے ایک آدمی کو قتل کرے تو قاتل کو قتل کیا جائے گا ، یا وہ دیت کے طور پر ایک سو وسق کھجور ادا کرے گا ۔ اس کے برعکس اگر بنو نضیر کا ایک آدمی بنو قریظہ کے آدمی کو قتل کرے تو قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ اس کو صرف دیت دینا ہو گا ، اور دیت بھی 40 وسق کھجور ہوگی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو دونوں یہودی قبیلوں کے کچھ افراد مسلمان ہو گئے ۔ ان نومسلموں میں یہ واقعہ ہوا کہ بنو نضیر سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان نے بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان کو قتل کر دیا ۔ اس کے بعد دونوں طرف کے لوگوں میں جھگڑا ہوا ۔ بنو نضیر اور اس کے حلیف قبیلہ اوس ) نے بنو قریظہ سے کہا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان پہلے سے طے ہے کہ ہمارا قاتل قتل نہیں کیا جائے گا ۔ اس کو صرف 40 وسق کھجور بطور دیت دینا ہوگا ۔ اس کے مطابق ہم تم کو 40 وسق کھجور دینے کے لیے تیار ہیں ۔ بنو قریظہ ( اور ان کے حلیف قبیلہ خزرج ) نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو جاہلیت کے زمانہ میں رائج تھی ۔ تم نے اپنی طاقت کے زور پر اس غیر منصفانہ اصول کو ہم سے منوا لیا تھا ۔ مگر اب ہمارے درمیان اسلام آچکا ہے اور اسلام میں مساوات کا اصول ہے ۔ یہاں ایک انسان اور دوسرے انسان میں کوئی فرق نہیں ۔ اس لیے اب مساوی بنیاد پر فیصلہ ہوگا ۔

جھگڑا بڑھا تو بنو قریظہ نے کہا کہ رسول اللہ کے پاس چلو اور ان سے فیصلہ لے لو ۔ انھیں یقین تھا کہ رسول اللہ جو فیصلہ کریں گے وہ ان کے حق میں ہوگا ۔ مگر بنو نضیر اس کے لیے راضی نہیں ہوئے ۔ کیوں کہ انھیں اندیشہ تھا کہ رسول اللہ کے یہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ نہ لے سکیں گے ۔ چنانچہ بنو نضیر نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page