قرآنی طریقہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۸
ہندستان میں عیسائیوں کی تعداد ۲ فی صد ہے ۔ مگر دنیا بھر میں کیتھولک عیسائی تقریباً ایک ارب کی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ دنیا بھر کے تمام کیتھولک چرچ براہ راست طور پر ویٹیکن کے ماتحتی ہیں ۔ ان کے تمام معاملات ویٹیکن کی ماتحت میں انجام پاتے ہیں ۔ چرچوں میں پادریوں کا تقرر ، ان کا معاوضہ ، ان کی ترقی یا عزل سب براہ راست ویٹیکن کرتا ہے ۔ صرف ہندستان میں گیارہ ہزار (Catholic priests) پادری ہیں اور وہ سب کے سب مکمل طور پر ایک بیرونی ادارہ ( ویٹیکن ) کے احکام کے تحت عمل کرتے ہیں ۔ ویٹیکن اپنی ساری وسعت کے باوجود ایک انتہائی منظم عالمی ادارہ کے طور پر کام کرتا ہے ۔ اگر مسلمانوں کا یہ کوئی ادارہ ہو تو غالباً اس کی ہر شاخ میں یہ واقعہ پیش آئے گا کہ وہاں جس شخص کو مقامی انچارج بنایا جائے گا وہ پہلی فرصت میں یہ منصوبہ بنائے گا کہ قانونی یا غیر قانونی تدبیر کر کے اپنی زیرِ انتظام شاخ کو ایک الگ ادارہ بنائے اور آزادانہ طور پر خود اس کے اوپر قابض ہو جائے ۔
مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ ماتحتی کو قبول نہیں کرتے ۔ اور بلاشبہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔
دہلی اور روم میں وقت کا فرق ساڑھے چار گھنٹہ ہے ۔ دہلی سے ہمارا جہاز دو بجے رات کو روانہ ہوا تھا ۔ جب وہ روم پہنچا تو مقامی وقت کے لحاظ سے صبح ساڑھے چھ بجے کا وقت تھا ، جب کہ اس وقت دہلی کی گھڑی میں دن کے گیارہ بج رہے تھے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دہلی کی گھڑی کے لحاظ سے ہم ساڑھے چار گھنٹہ پہلے روم پہنچ گئے ــــــــ ہندستان سے مغرب کی طرف سفر کریں تو آپ وقت کو حاصل کرتے ہیں اور اگر ہندستان سے مشرق کی طرف سفر کریں تو آپ وقت کو کھو دیتے ہیں ۔
۵ دسمبر کو میں دکار ( سینگال ) پہنچا ۔ روم سے دکار کا سفر ایئر افریق (Air Afrique) کے ذریعہ ہوا ۔ یہاں تقریباً ۲۰ گھنٹے قیام رہا ۔ ہوائی سفر کا قاعدہ ہے کہ اگر آپ کو کسی مقام پر جہاز بدلنے کے لیے ٹھہرنا ہے اور آگے کی فلائٹ میں آپ کی سیٹ کنفرم ہے تو ہوائی کمپنی اپنے خرچ پر آپ کو ہوٹل میں ٹھہرائے گی ۔ اور ہوائی اڈہ سے ہوٹل آنے جانے کے لیے سواری بھی اپنی طرف سے مہیا کرے گی ۔ اس کے لیے ہوائی اڈہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues