Al-Risala · February 1986 · page 29

قرآنی طریقہ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۹

پر مستقل ڈسک ہوتے ہیں۔ روم کے ہوائی اڈہ پر یہ ڈنک پیسنجر سروس کے نام سے ہے اور دکار میں ایئر افریق اور ایئر فرانس کے نام سے ۔ آپ یہاں اپنا ٹکٹ دکھا کر کاغذ بنوا لیجیے ۔ اس کے بعد ہوٹل کے لوگ بطور خود آپ کا انتظام کریں گے ۔ اگر وقت کافی ہو تو سفر کے آغاز سے پہلے ہی بذریعہ ٹیلیگس ہوٹل کا ریزرویشن ہو جاتا ہے ۔ دکار میں میرا قیام ہوٹل میریڈین (Meridien) کے کمرہ نمبر ۴۵۶۹ میں تھا۔ یہ ہوٹل وسیع پہاڑی ماحول میں قائم ہے ۔ ہو ا نہایت خوش گوار ہے ۔ یہاں نماز پڑھتے ہوئے دعا نکلی : خدایا میں نے تیرے آگے ایشیا میں سجدہ کیا تھا ۔ پھر میں نے یورپ میں تیرے آگے سجدہ کیا اور اب افریقہ میں تیرے آگے سجدہ کر رہا ہوں ۔ تو میری نمازوں کو قبول فرما اور مجھے بخش دے ۔

دکار سینیگال کی راجدھانی ہے ۔ یہاں کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے ۔ لوگ یا تو فرانسیسی زبان بولتے ہیں یا مقامی زبان ۔ تاہم غربی اور انگریزی بولنے والے بھی بقدر ضرورت مل جاتے ہیں ۔ یہاں مور یطانیہ کے ایک صاحب ملے ۔ وہ وہاں ریڈیو اور ٹیلی وزن کے محکمہ میں کام کرتے ہیں ۔ وہ عربی اچھی جانتے تھے اور میری کتاب (اسلام متحد کی) سے واقف تھے ۔

دکار(Dakar)افریقہ (Dakar) افریقہ کے چند اہم شہروں میں سے ایک ہے ۔ سمندر کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے اس کو ترقی کے کافی مواقع ملے ہیں ۔ ۱۹۰۲ سے ۱۹۵۹ تک وہ فرانس کے قبضہ میں رہا ۔ ۱۹۶۰ میں پہلی بار فرانسیسی یہاں سمندر کے راستہ سے داخل ہوئے تھے ۔ سینیگال میں تقریباً ۹۰ فی صد مسلمان ہیں ۔ دکار کی آبادی ایک ملین کے لگ بھگ ہے ۔

دکار کا ہوٹل میریڈین عین سمندر کے کنارے ہے اور نہایت وسیع رقبہ میں ریزورٹ کے انداز میں بنایا گیا ہے ۔ اس کے ایک طرف دور تک پھیلے ہوئے سرسبز و شاداب مناظر ہیں اور دوسری طرف سمندر کی لہریں موجیں مارتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔ گویا ایک طرف جمال خداوندی کے مناظر ہیں اور دوسری طرف جلالِ خداوندی کے ۔ مگر لوگوں کے چہرے بتاتے ہیں کہ وہ یہاں صرف تفریح کے لیے آتے ہیں ۔ انھوں نے یہاں نہ خدا کے جمال کو دیکھا اور نہ اس کے جلال کا مشاہدہ کیا۔

ڈچ نے1617ء میں یہاں کا ایک چھوٹا جزیرہ خرید کر حاصل کیا تھا ۔ اس وقت سے یہاں مغربی تدخل کا آغاز ہوا ۔ فرانسیسیوں نے اس جزیرے پر 1677 میں قبضہ کر لیا ۔ اس کے بعد یہاں برطانی آئے۔ بالآخر فرانسیسیوں نے اس کا بڑھا حصہ ۱۷۵۸ میں فتح کیا ۔ ۱۸۸۵ میں یہاں پہلی ریلوے قائم کی گئی ۔ دکار کا صدارتی محل

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page