قرآنی طریقہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۲
انہوں نے کہا کہ یہ میں بچوں کے لیے لے رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ اپنے بچوں کو بھی ویسا ہی بنایئے جیسا آپ کو بننا ہے وہ ہنس کر کہنے لگے " آپ تو ابو ذر غفاری ہیں ، ہم لوگ ایسے کہاں بن سکتے ہیں "
6دسمبر 1985 کی صبح کو ہم ایر افریقی کے ذریعہ بماکو پہنچے۔ بماکو مالی کی راجدھانی ہے۔ یہ سفر وقفہ کے لحاظ سے میرے تمام سفروں میں سب سے زیادہ طویل تھا۔ ۳ دسمبر کا دن گزار کر رات کو میں نے عشاء کی نماز دہلی میں پڑھی تھی ۔ اس کے بعد برابر سفر میں رہا۔ یہاں تک کہ ۶ دسمبر کو فجر کی نماز بس کو میں پڑھی۔ عجیب اتفاق ہے کہ نومبر 1985 کے تیسرے ہفتے میں امریکہ میں تھا ۔ وہاں سے واپسی کے جلد ہی بعد دسمبر کے پہلے ہفتہ میں یورپ سے گزرتے ہوئے افریقہ آنا ہوا۔ اس تین ہفتہ کے اندر میں نے اپنی نمازیں چار براعظموں (امریکہ، ایشیا، یورپ، افریقہ) میں ادا کیں ۔ اس طرح گویا خدا کی زمین کے بیشتر حصہ میں خدا کے آگے سجدہ کرنے کی توفیق نصیب ہوئی۔ اپنی مغفرت کی دعا کے بعد دوسری دعا جو دل سے نکلتی رہی وہ یہ تھی کہ خدایا، بھٹکے ہوئے لوگوں کی ہدایت کا سامان فرما۔
مالی کا رقبہ 1240000 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی آبادی ۱۹۷۰ء کی مردم شماری کے مطابق تقریباً ستّر لاکھ ہے ۔ بماکو اس کی راجدھانی ہے ۔ یہ ملک ۱۸۹۸ سے لے کر ۱۹۶۰ تک فرانس کے زیر قبضہ رہا۔ اب وہ آزاد ہے مالی بنیادی طور پر زرعی ملک ہے ۔ اس کا تقریباً نصف حصہ صحرا ہے۔ یہاں کا سب سے بڑا دریا نائجر ہے۔ ۹۰ فی صد آبادی زراعت پیشہ ہے۔ یہاں کی سرکاری زبان ابھی تک فرانسیسی ہے۔ آبادی میں تقریباً ۸۰ فی صد مسلمان ہیں ۔ عیسائیوں کی تعداد صرف ۲ فی صد ہے۔ یہاں کے لوگ گیارہویں صدی عیسوی میں مسلمان ہوئے بما کو کی آبادی تقریباً چھ لاکھ سترہ ہزار ہے۔ تعلیم دس فی صد ہے۔ مالی میں لوہا پیدا ہوتا ہے ۔ وہ ملک میں ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ باکسائٹ، مینگنیز ، فاسفورس وغیرہ پائے جاتے ہیں ۔ سونا بھی ملتا جاتا ہے ۔ تاہم ذریعہ آمدنی زیادہ تر زراعت اور مچھلی ہے۔ مچھلی نائجر دریا سے حاصل کی جاتی ہے ۔ ریل صرف 400میل تک ہے زیادہ تر روڈ سے سفر کیا جاتا ہے۔ یہاں کی حکومت کا نظام جمہوری ہے ۔ مالی کا انحصار فرانس کی مدد پر رہا ہے اب عرب ملکوں سے بھی اس کو کافی امداد مل رہی ہے۔ مالی مغربی افریقہ میں واقع ہے۔ اس کو سمندری کنارہ حاصل نہیں ۔
بماکو میں میرا قیام ہوٹل (Hotel Sofitel L'Amitie) میں تھا۔ میرے کمرہ کا نمبر ۱۲۷ تھا ۔ میرا مزاج کچھ اس قسم کا ہے کہ " در و دیوار سے مجھے انس نہیں ہوتا ۔ خواہ وہ تعمیراتی اعتبار سے کتنے ہی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues