Al-Risala · February 1986 · page 39

I am trying to be a good listener

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۹

( النقل )

افغانستان کے نمائندے نے بتایا کہ افغانستان اگر چہ ایک چھوٹی قوم ہے مگر اس کا جذبہ بہت بڑھا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا جہاد صرف افغانستان کو آزاد کرنے پر ختم نہیں ہوگا ۔ بلکہ افغانستان کو آزاد کرانے کے بعد ہم سرحد کو پار کر کے آگے بڑھیں گے اور ان مسلمانوں کو بھی آزاد کرائیں گے جو روسی سرحد کے اندر ہیں اور اشتراکی حکومت کے غلام بنے ہوئے ہیں ۔

افسوس کی یہ بات مجھے خوش نہ کر سکی۔ کیوں کہ جوش کی یہ قسم وہ ہے جو مسئلہ کو صرف بڑھاتی ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں مسئلہ کو ختم کرنے والی نہیں بنتی ۔

ایک بار چند آدمیوں کے درمیان دنیائے اسلام کی موجودہ حالت پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک عرب عالم نے کہا کہ آج مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے معاملات کی (قيادة جاہلوں کے ہاتھ میں ہے نہ کہ عالموں کے ہاتھ میں ( قیادت امور المسلمين في ايدى الجهلة لافي ايدي العلماء )

یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ مگر فوراً سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی برتنتی موت الکبرائی کا معاملہ ہے۔ یعنی حقیقی علم والے لوگ موجود نہیں ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کے معاملہ کے ذمہ دار وہ لوگ ہوگئے ہیں جن کے پاس جہالت کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ قیادت کے اعتبار سے علم والے وہ لوگ ہیں جو ایک طرف کتاب و سنت سے بخوبی واقف ہوں ، اسی کے ساتھ وہ زمانہ کے تقاضوں کو پوری طرح جانتے ہوں ۔

میرا مزاج یہ ہے کہ میں بولتا کم ہوں اور سنتا زیادہ ہوں۔ کانفرنس میں بھی میں ایسا ہی کر رہا تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ دوسروں کے مقابلہ میں کم بولتے ہیں ۔ میں نے کہا :

I am trying to be a good listener

( میں کوشش کر رہا ہوں کہ میں اچھا سننے والا بنوں موجودہ زمانہ کی مسلم جماعتوں میں صرف تبلیغی جماعت میں یہ مزاج پایا جاتا ہے کہ اس کے افراد یہ جانتے ہیں کہ چپ رہنا اور دوسرے کی بات سننا بھی ایک کام ہے۔ ورنہ ہماری اکثر جماعتوں کے افراد کو صرف یہ معلوم ہے کہ انھیں مسلسل بولنا چاہیے ، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ چپ رہنا ان کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہو گیا ہو ۔

ایک صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اس وقت ساری دنیا میں تقریباً ۱۰ ملین پناہ گزیں (لاجیئین)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page