Al-Risala · January 1987 · page 8

آدمی کی پہچان

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۸

آدمی کی پہچان

تقدم رجل لاداء الشهادة عند عمر رضی الله عنه فقال له ائتني بمن يعرفك ـ فاتاۃ برجل فقال له اميرالمومنين ، هل انت جاره الادنى الذى يعرف مدخله ومخرجه ؟ فقال : لا ، قال هل كنت رفيقه في السفر الذى يستدل به على مكارم الاخلاق ؟ قال : لا ، قال : هل عاملته بالدينار والدرهم الذى يستبين منه ورع الرجل قال : لا ، قال : اظنك رايته قائماً فى المسجد يتلو القرآن، يخفض راسه تارة ويرفعه اخرى قال : نعم ، فقال امير المؤمنين : اذهب فلست تعرفه ـ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی الله عنہ کے پاس ایک شخص گواہی دینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس سے کہا کہ کوئی ایسا آدمی لے آؤ جو تم کو جانتا ہو۔ اس کے بعد وہ ایک آدمی کو لے آیا۔ حضرت عمرؓ نے اُس سے پوچھا۔ کیا تم اس شخص کے قریبی پڑوسی ہو جو اس کے آنے کو اور جانے کو دیکھتا ہے۔ آدمی نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے پوچھا۔ کیا تم اس کے ساتھ سفر میں رہے ہو جس میں آدمی کا اخلاق معلوم ہوتا ہے۔ آدمی نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے پوچھا۔ کیا تم نے اس کے ساتھ دینار اور درہم کا معاملہ کیا ہے جس کے ذریعہ آدمی کا تقویٰ ظاہر ہوتا ہے۔ آدمی نے کہا کہ نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے اس کو مسجد میں دیکھا ہے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے اور قرآن پڑھ رہا ہے، کبھی وہ اپنا سر نیچے لے جاتا ہے اور کبھی اپنا سر اوپر اٹھاتا ہے۔ آدمی نے کہا کہ ہاں۔ حضرت عمر نے فرمایا : تم واپس جاؤ، کیوں کہ تم اس کو نہیں جانتے ۔

مذکورہ آدمی جس شخص کی نیکی کی گواہی دینے آیا تھا، اس کو اس نے "خدا" کے سامنے کھڑا ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ مگر اس نے اس کو "انسان" کے سامنے کھڑا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ اس بنا پر حضرت عمر نے اس آدمی کی رائے کو نہیں مانا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسانی معاملات میں کوئی شخص نیک ثابت نہ ہو اس وقت تک اس کی نیکی کا کوئی اعتبار نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page