حق کی تلاش میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۷
حق کی تلاش میں
مسٹر نٹور سنگھ چین اور پاکستان میں ہندوستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔ ان کے چینی دوستوں میں سے ایک خاتون بھی ہیں جن کا نام ہین سوئن (Han Suyin) ہے۔ مسٹر نٹور سنگھ نے اس چینی خاتون کا ذکر اپنی ایک کتاب میں کیا ہے جو ۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی ہے : K. Natwar Singh, Curtain Raisers Vikas Bhawan, New Delhi, 1983 اس کتاب کے ایک باب میں مذکورہ خاتون ہین سوئن کے وہ خطوط ہیں جو انھوں نے انگریزی میں مسٹر نٹور سنگھ کے نام لکھے تھے۔ ایک خط جس پر ۱۴ جون ۱۹۸۰ء کی تاریخ درج ہے، اس میں مسز ہین سوئن لکھتی ہیں کہ میری شدید خواہش ہے کہ آپ سے اسلام کے بارہ میں بہت لمبی گفتگو کروں :
I do intend to have a very long talk with you on Islam. خط میں یا اصل کتاب میں اس کی مزید تفصیل درج نہیں۔ غالباً ہین سوئن کو کوئی مسلمان نہیں ملا جس سے بات کر کے وہ اسلام کے بارہ میں تفصیلی معلومات حاصل کریں۔ انھوں نے مسٹر نٹور سنگھ کو اس حیثیت سے دیکھا کہ وہ ہندوستان کے باشندے ہیں، اور ہندوستان وہ ملک ہے جہاں انڈونیشیا کے بعد دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہے۔ نیز مسٹر نٹور سنگھ ایک مسلم ملک (پاکستان) میں سفیر رہ چکے ہیں۔ اس بنا پر مسز ہین سوئن نے سمجھا کہ وہ ان کو اسلام کے بارے میں تفصیلی معلومات دے سکیں گے۔
اللہ کے کتنے بندے اور بندیاں سچائی کی تلاش میں ہیں مگر کوئی ان کو سچائی کی بات بتانے والا نہیں۔ کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے تو تمام مسلمان اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔ مگر کا یہ نبوت سے عملاً وہ اس طرح غافل ہیں جیسے انھیں انتظار ہو کہ دوبارہ کوئی نبی آئے اور ان کی طرف سے یہ کام کر دے۔ یہ صورت حال اس وقت ہے جب کہ مسلمان ساری دنیا میں تقریباً ایک سو کروڑ ہیں۔ ہجوم کے درمیان سناٹا کی اس سے زیادہ عجیب مثال کوئی دوسری نہیں ملے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues