Al-Risala · March 1987 · page 8

اختلاف کا سبب

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۸

اختلاف کا سبب

خبّاب بن الارت کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار معمول کے خلاف بہت لمبی نماز پڑھی۔ صحابہ نے اس کی بابت سوال کیا تو فرمایا: یہ رغبت اور خوف کی نماز تھی۔ میں نے اس میں اللہ سے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو قبول ہو گئیں ۔ ایک کے بارہ میں انکار کر دیا گیا۔ فرمایا : میں نے پہلی دعا یہ کی کہ میری ساری امت قحط سے ہلاک نہ ہو جائے یہ قبول ہو گئی۔ دوسری دعا یہ کی کہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن مسلط نہ ہو جو ان کو بالکل مٹا دے۔ یہ بھی قبول ہو گئی۔ تیسری دعا یہ کی کہ میری امت کے اندر آپس میں لڑائی جھگڑے نہ ہوں۔ یہ قبول نہیں ہوئی۔

اس کی تصدیق ایک اور روایت سے ہوتی ہے :

عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان الشیطان قد آیس من أن وسلم نے فرمایا، شیطان اس بات سے مایوس یعبدہ المصلون فی جزیرة العرب ، ہو چکا ہے کہ مسلمان جزیرہ عرب میں اس کی ولكن في التحريش بينهم عبادت کریں۔ لیکن مسلمانوں کے درمیان دشمنی (رواه مسلم ، مشکوة باب فی الوسوسه) کی آگ بھڑکانے سے (وہ مایوس نہیں ہوا ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اندیشہ حیرت انگیز طور پر مسلمانوں کی بعد کی تاریخ میں صحیح ثابت ہوا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں یہ نفسیات کیوں ہے کہ شیطان بہت آسانی سے ان کو باہمی جدال کے بے فائدہ مشاغل میں الجھا دیتا ہے ۔

اس کی وجہ اسلام کے بجائے اپنے آپ کو برحق سمجھ لینا ہے۔ مسلمان اگر اسلام کو بر حق سمجھیں تو سب کا مرکز توجہ ایک ہوتا ہے۔ یہ ذہن تمام لوگوں کو اسلام پر متحد کر دیتا ہے۔ مگر دور جدید میں یہ ہوتا ہے کہ ہر مسلمان اپنے آپ کو بر حق سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں مرکز تقسیم ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسرے سے الگ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مسلمان اسلام کو سچا سمجھیں تو اس سے اتحاد پیدا ہوتا ہے، اور اگر وہ اپنے آپ کو سچا سمجھیں تو اس سے اختلاف۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page