اختلاف کا سبب
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۹
ایک حدیث
عن ابی ہریرة رضی اللہ عنہ انہ سمع ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول : ان العبد لیتکلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ بالکلمة مایتبین فیہا یزلی بھا الی النار بندہ بے سو چے سمجھے بات کہتا ہے، اس کی وجہ البعد ما بین المشرق والمغرب - سے وہ جہنم میں گر کر اس سے بھی زیادہ دور چلا (متفق علیہ) جاتا ہے جتنا مشرق اور مغرب میں فاصلہ ہے ۔
تبین یبین کے معنی عربی زبان میں غور کرنے کے ہیں ۔ یعنی بولنے سے پہلے یہ سوچنا کہ آدمی جو کچھ کہنے جارہا ہے وہ ٹھیک ہے یا بے ٹھیک ۔ اس حدیث کے مطابق بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کو بظاہر آدمی معمولی سمجھتا ہے مگر وہ اتنی سنگین ہوتی ہیں کہ آدمی کو جہنم میں گرانے کا سبب بن جاتی ہیں ۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کچھ باتیں پر اسرار طور پر بری ہیں۔ یعنی بظاہر ان کا برا ہونا آدمی کو معلوم نہیں ہوتا ۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ اللہ کے یہاں بری قرار پا جاتی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بری بات کا برا ہونا لوگوں کو معلوم ہے ۔ البتہ جو بات لوگوں کو معلوم نہیں ہے وہ یہ کہ ایک بری بات جس طرح ایک ایسے شخص کے حق میں بولنا غلط ہے جو ہماری اچھی فہرست میں شامل ہو، اسی طرح اس شخص کے لیے بھی اس کو بولنا غلط ہے جو ہماری بری فہرست میں چلا جائے ۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جس آدمی سے وہ خوش ہوں اس کے بارے میں بولنا ہو تو وہ سوچنے سمجھے الفاظ اپنی زبان سے نکالتے ہیں ۔ مگر جس شخص سے ان کو شکایت ہو جائے یا جس کو وہ کسی وجہ سے حقیر سمجھ لیں اس کے بارہ میں وہ کسی احتیاط کی ضرورت نہیں سمجھتے ۔ ایسے شخص کے معاملہ میں وہ بلا تحقیق کوئی بھی برا لفظ بول دیں گے ۔ ایسے شخص پر وہ کوئی بھی بے بنیاد الزام لگا دیں گے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ دلیل اور ثبوت کے بغیر کسی شخص پر الزام لگانا کسی بھی حال میں کسی کے لیے جائز نہیں ۔ خواہ وہ لوگوں کی نظر میں کتنا ہی بڑا بزرگ کیوں نہ ہو۔ خواہ بظاہر اس نے دین یا دنیا کے کتنے ہی بڑے کارنامے انجام دیئے ہوں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues