Al-Risala · March 1987 · page 10

حسد کے بجائے دعا

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۱۰

حسد کے بجائے دعا

لطیفہ ہے کہ ایک غریب دیہاتی تھا۔ وہ معاشی اعتبار سے بہت پریشان رہتا تھا۔ کسی شخص نے اس سے کہا کہ تم اکبر بادشاہ کے پاس جاؤ۔ اس کے پاس بہت پیسہ ہے اور وہ ہر مانگنے والے کو دیتا ہے۔ وہ تم کو بھی ضرور دے گا اور تمہارا معاشی مسئلہ حل ہو جائے گا۔ دیہاتی آدمی نے کہا کہ اکبر بادشاہ کو کس نے دیا ہے۔ بتلانے والے نے بتایا کہ خدا نے۔ دیہاتی نے کہا کہ پھر ہم خدا ہی سے کیوں نہ مانگیں ، ہم اکبر سے کیوں مانگیں ۔

اس کے بعد وہ ایک روز اپنے گھر سے نکلا اور سنسان جنگل کی طرف چلا گیا۔ وہاں جا کر اس نے اپنا میلا کپڑا زمین پر بچھا یا اور اس پر بیٹھ کر خدا سے دعا کرنے لگا۔ اس نے اپنی دیہاتی زبان میں کہا : اے اکبر کو دینے والے، مجھے بھی دیدے۔ وہ اسی طرح دعا کرتا رہا۔ یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہوا اور اس نے اپنا کپڑا اٹھایا تو اس کے نیچے اشرفیوں کی بھری ہوئی تھیلی موجود تھی۔ یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ ہمارے بڑے بڑے دماغ اور اونچے پڑھے لکھے لوگ اپنے شعور اور کردار کے اعتبار سے اس سطح پر بھی نہیں ہیں جہاں مذکورہ دیہاتی آدمی تھا۔ آج یہ حالت ہے کہ جب بھی کوئی شخص یہ دیکھتا ہے کہ دوسرا آدمی اس سے بڑھ گیا ہے، خواہ یہ بڑھنا مال کے اعتبار سے ہو یا حیثیت کے اعتبار سے ، تو فوراً وہ حسد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے سینے میں بڑھنے والے آدمی کے خلاف نفرت اور جلن کی کبھی نہ ختم ہونے والی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔ حسد اور جلن میں مبتلا ہونے والے لوگ اگر یہ سمجھیں کہ کسی کو جو کچھ ملا ہے وہ خدا کے دینے سے ملا ہے، وہی کم بھی دیتا ہے اور وہی زیادہ بھی دیتا ہے ، تو وہ بھی وہی کریں جو مذکورہ دیہاتی نے کیا۔ وہ پانے والے انسان کے بجائے دینے والے خدا کی طرف دوڑیں ۔ وہ خدا کو پکارتے ہوئے کہیں کہ جس طرح تو نے میرے بھائی کو دیا ہے اسی طرح تو مجھے بھی دیدے۔ اگر لوگوں میں یہ مزاج آ جائے تو سماج کی تمام برائیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں ۔

کسی کی بڑائی کو دیکھ کر اپنی کمی کا احساس ابھرنا بذات خود ایک فطری جذبہ ہے۔ اس جذبہ کا رخ اگر خدا کی طرف ہو تو وہ صحیح ہے اور اگر اس کا رخ آدمی کی طرف ہو تو غلط ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page