جہاد یا سرکشی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۱۱
جہاد یا سرکشی
بنگلور کے انگریزی اخبارکن ہرالڈ ( ۷ دسمبر ۱۹۸۶) نے ایک کہانی چھاپی جس میں پیغمبر اسلام کے خلاف گستاخی کا پہلو پایا جاتا تھا۔ اس پر مقامی مسلمان بگڑ گئے۔ انھوں نے اخبار کا گدام جلا ڈالا جس میں ایک کروڑ روپیہ کا کاغذ رکھا ہوا تھا۔ پاکستان کے انگریزی اخبار فرنٹیر پوسٹ (۹ جنوری ۱۹۸۷) میں کسی مغربی پرچہ سے ایک مضمون نقل کیا گیا۔ اس کے ساتھ آدم اور حوا کی ایک تصویر تھی وہ بھی فرنٹیر میل میں چھپ گئی۔ اس کے بعد ڈیڑھ ہزار کی تعداد میں بھیرے ہوئے مسلمانوں نے اخبار کی وسیع عمارت کو گھیر لیا اور اس کو ساز و سامان سمیت جلا کر خاکستر کر دیا۔
اس قسم کے واقعات ایک یا دوسری شکل میں ہر اس ملک میں ہو رہے ہیں جہاں مسلمانوں کو عمل کی آزادی حاصل ہے۔ مسلمان اپنی ملی ہوئی آزادی کو اسی قسم کی تخریب کاری میں استعمال کر رہے ہیں اور اس کا نام انھوں نے اسلامی جہاد رکھا ہے ۔
اس قسم کا ہر عمل بلا شبہ غیر اسلامی عمل ہے۔ یہ جہاد نہیں بلکہ سرکشی ہے اور سرکشی اللہ تعالیٰ کے یہاں بد ترین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس معاملہ کی شرعی حیثیت کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجئے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَالَ: " إضْرِبُوهُ ، فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ ۔ ثُمَّ قَالَ : - بِكْتُوهُ - " فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ يَقُولُونَ : مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ ، مَا خَشِيتَ اللَّهَ ، وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : أَخْزَاكَ اللَّهُ ، قَالَ : - لَا تَقُولُوا هَكَذَا ، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشيطـٰنَ وَلَكِنْ قُولُوا : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ أَرْحَمْهُ " رَوَاهُ أَبُو داود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ وہ شراب پئے ہوئے تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو مارو۔ پس ہم میں سے کوئی شخص اس کو ہاتھ سے مارنے لگا اور کوئی شخص کپڑے سے اور کوئی شخص جوتے سے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اس کو عار دلاؤ ۔ پس لوگ کہنے لگے کیا تم کو ڈر نہیں، کیا تم کو اللہ کا خوف نہیں، کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم نہیں آئی۔ پھر حاضرین میں سے بعض لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ خدا تمہیں رسوا کرے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues