Al-Risala · March 1987 · page 13

جہاد یا سرکشی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۱۳

سے بغاوت ہے ۔ ایسا شخص خود سب سے بڑا مجرم ہے ، اس کو حق نہیں کہ کسی دوسرے شخص کو مجرم قرار دے کر اس کے اوپر اپنی خود ساختہ سزا کا نفاذ کرنے لگے ۔

زمانہ جاہلیت میں یہود اور اہل عرب نے یہ دستور بنا رکھا تھا کہ وہ اونچے خاندان کے مجرم اور نیچے خاندان کے مجرم کے درمیان سزائیں فرق کرتے تھے ۔ اس پر قرآن میں قصاص کی آیت (البقرہ ۱۷۸) اتاری گئی ۔ اس میں کہا گیا کہ اے ایمان والو ، تم پر مقتولین کے معاملہ میں برابری اور مساوات کو فرض کیا گیا ہے ۔ سزائے قتل کے معاملہ میں جو لوگ قصاص (برابری) کے شرعی اصول کو اختیار نہ کریں ۔ یا مثلاً معافی اور دیت قبول کرنے کے بعد مزید یہ کریں کہ وہ قاتل کو قتل کر ڈالیں تو یہ اعتدار (زیادتی) ہے اور اس قسم کا اعتدار کرنے والوں کے لیے خدا کے یہاں درد ناک عذاب ہے ۔

حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جو شخص قتل کیا جائے تو اس کے وارثوں کے لیے تین میں سے ایک چیز ہے ۔ قصاص ، یا معاف کر دینا ، یا دیت لینا ۔ اس کے بعد اگر وہ کوئی چوھتی چیز چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو ۔ جو اس کے بعد بھی زیادتی کرے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا (ومن اعتدی بعد ذالك فله نار جهنم خالد فيها ، تفسير ابن کثیر جلد اول)

اس حکم شریعت کے مطابق جرم اور سزا میں برابری ہونا ضروری ہے۔ کسی مجرم کو حد شرعی سے زیادہ سزا دینا یا مقررہ سزا کے سوا کوئی اور سزا دینا سراسر حرام ہے ۔ ایک شخص سے کوئی شرعی جرم سرزد ہو تو خود مجرم پر شرعی سزا کا نفاذ کیا جائے گا ۔ اس کے بجائے اگر اس کے ہم قوموں کو مارا جانے لگے یا مجرم کی جائداد کو تباہ کیا جائے تو یہ سراسر فعل حرام ہے ۔ جو لوگ ایسا کریں یا جو لوگ ایسا کرنے والوں کی حمایت کریں حتیٰ کہ جو لوگ ایسے فعل کو دیکھ کر خاموش رہیں وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں مبتلا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی سخت ترین باز پرس کی جائے ۔

ملک کا اقتدار اگر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو جن سے یہ امید نہ ہو کہ وہ مجرم کے اوپر شرعی سزا کا نفاذ کریں گے تب بھی مسلمانوں کے لیے قانون اپنے ہاتھ میں لینا جائز نہیں ۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کے لیے نصیحت اور صبر ہے نہ کہ سزا کا نفاذ ۔ یہ اصول کئی دور کے عمل سے ثابت ہے ۔ اس وقت مکہ کے لوگ کھلے طور پر شراب پیتے تھے ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے ان پر حد جاری کرنے کی کوشش نہیں فرمائی ۔ حد کا نفاذ اقتدار ملنے کے بعد کیا گیا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page