خاتون اسلام از : مولانا وحیدالدین خاں
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۲۲
سبق آموز
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں کوئی شخص مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرنے والا نہیں ، سوا عبداللہ بن عمرو بن العاص کے، کیوں کہ وہ آپ سے سن کر حدیثوں کو لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا (ما من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد اکثر حدیثا عنہ منی الا ما كان من عبد الله بن عمرو بن العاص فانه كان يكتب ولا اكتب)
بظاہر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایتوں کی تعداد حضرت ابو ہریرہ کی روایتوں سے زیادہ ہو، مگر عملاً ایسا نہیں ہے۔ کیوں کہ حضرت ابو ہریرہ کی روایتوں کی تعداد ۵۳۷۴ تک شمار کی گئی ہے۔ جب کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایتوں کی تعداد صرف ۷۰۰ ہے ۔ یہاں ایک شخص الجھن میں پڑے گا کہ ایسا کیوں ہے۔ حالاں کہ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ یہ صورت حال ہجرت کے ابتدائی زمانہ تک تھی۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص کو ان کی فوجی صلاحیت کی بنا پر اسلامی فوج کا سردار بنا دیا گیا۔ اب ان کا زیادہ وقت مدینہ سے باہر گزرنے لگا۔ حضرت ابو ہریرہ حسب سابق بیشتر اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہتے اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص زیادہ تر باہر ہوتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابتداً اگر حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایتوں کی تعداد زیادہ تھی تو بعد کو حضرت ابو ہریرہ کی روایتوں کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ اسی طرح اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک معاملہ کے دو رخ ہوتے ہیں۔ جو بات معاملہ کے ایک رخ کے پہلو سے کہی گئی ہو اس کو معاملہ کے دوسرے پہلو پر چسپاں کر دیا جائے تو بات کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے اور معاملہ کی صحیح تصویر آدمی کے سامنے نہیں آتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues