سویٹر لینڈ کا سفر دوسری قسط
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۳۱
مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کی طرف سے اکثر یہ الفاظ سننے پڑتے ہیں کہ تمہارے یہاں توستر سے زیادہ فرقے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں اس سے بھی زیادہ فرقے ہیں۔ امریکہ کے ونسنٹ فوٹ (Vincent Foote) ایک باپٹسٹ (Baptist) تھے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں ۲۵۰ قسم کے باپٹسٹ ہیں۔ اور مجموعی طور پر عیسائیوں میں تین ہزار فرقے ہیں۔ ابھی حال میں (۳۵ سال پہلے) ایک نیا عیسائی فرقہ بنا ہے۔ اس کا صدر دفتر امریکہ (واشنگٹن ڈی سی) میں ہے۔ اس کا نام یہ ہے: Church of Scientology International حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں اور دوسرے مذاہب میں اصل فرق فرقے کی کثرت کا نہیں ہے بلکہ جھگڑے کی کثرت کا ہے۔ مسلمان بات بات پر آپس میں لڑتے رہتے ہیں اس لیے کم فرقہ ہونے کے باوجود وہ کثرت فرقہ کے لیے مشہور ہیں۔ جب کہ دوسرے مذاہب کے لوگ زیادہ فرقے ہونے کے باوجود اس طرح آپس میں نہیں لڑتے، اس لیے ان کا باہمی اختلاف دوسروں کو بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ کناڈا کے ایک پادری (Petro Bilaniuk) نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اشتراکی روس میں کس طرح مذہبی تشدد ہورہا ہے۔ انھوں نے اعداد و شمار کی روشنی میں کافی تفصیلات بتائیں۔ مگر یہ تمام تفصیلات صرف عیسائی مذہب اور عیسائی فرقہ پر تشدد کے بارہ میں تھیں۔ ان کی تقریر کے مطابق گویا اشتراکی روس میں مسلمانوں کا کوئی وجود نہیں اور نہ ان پر کوئی تشدد ہوا ہے ۔ بظاہر یہ یک رخا جائزہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر ٹھیک یہی طریقہ خود مسلمان بھی اختیار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی کتابیں اور مضامین اشتراکی روس کے بارہ میں پڑھیے تو ان میں عام طور پر صرف اس تشدد کا ذکر ملے گا جو اشتراکی انقلاب کے بعد وہاں کے مسلم فرقہ پر ہوا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی نظر میں اصل مسئلہ اپنی قوم کا ہے نہ کہ انسانی اصول کا۔ انھیں حقیقتہً قومی شکایت ہے نہ کہ اصولی شکایت ۔
ڈاکٹر لیک (Dr Daniel Lack) نے کہا :
Religious rights are less fundamental than the other rights, like economic rights. مذہبی حقوق دوسرے حقوق سے کم بنیادی ہیں، مثلاً معاشی حقوق سے) یہ سن کر مجھے ایک لطیفہ کیلیے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues