Al-Risala · March 1987 · page 32

سویٹر لینڈ کا سفر دوسری قسط

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲

جھٹکا لگا۔ میں نے سوچا کہ جدید انسان اگر مذہب کو مانتا بھی ہے تو اس کو کم درجہ دینے کے بعد مانتا ہے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ عملی طور پر مسلمانوں کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ مسلمانوں کی بڑی بڑی سرگرمیوں کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کے یہاں بھی دین دوسرے درجہ پر چلا گیا ہے ۔ اور دوسری دوسری چیزوں نے نمبر ایک کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ حتی کہ بہت سی تحریکیں جو بظاہر دین کے نام پر اٹھیں ان کی تہ میں بھی حقیقتہً سیاسی اور معاشی اور قومی محرک زیادہ کام کرتا ہوا ملے گا اور دینی محرک کم۔

اس طرح کی کانفرنسوں میں عمدہ الفاظ بولنے والے تو بہت ملتے ہیں۔ مگر ایسا کوئی شخص شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے جو واقعئہ درد اور فکر کا حامل ہو۔ ایک صاحب کے چہرے پر درد مندی کے آثار دیکھ کر مجھے ان سے دل چسپی پیدا ہوئی۔ ان کا نام پھنتسوگ ونگیال (Phuntsog Wangyal) تھا۔ مگر ان سے گفتگو کے بعد میرا حسن ظن باقی نہ رہ سکا ۔ وہ بدھسٹ تھے اور سرے سے خدا کو مانتے نہ تھے۔ ان کی درد مندی کا راز یہ تھا کہ وہ تپتی ہیں۔ تبت میں چین میں داخلہ کے بعد انہیں تبت چھوڑنا پڑا۔ آج کل وہ لندن میں رہتے ہیں۔ وہ برطانی شہریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اب تک انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ وہ اپنے آپ کو صرف ایک "رفیوجی" سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ ساری دنیا میں کہیں ان کا کوئی وطن نہیں ۔ ان کا درد "رفیوجی" ہونے کے احساس پر مبنی تھا نہ کہ اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس پر۔

مسٹرونگیا ل سے میں نے پوچھا : آپ لوگ کیا دلائی لاماکو خدا یا خدا کا اوتار (God-incarnate) سمجھتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ عام طور پر بدھوں کا یہی خیال ہے ۔ وہ ان کو زندہ بدھا (Living Buddha) مانتے ہیں۔ مگر میں ایسا خیال نہیں کرتا۔ میرے نزدیک وہ ایک اچھے انسان ہیں اور بس ۔ مسٹرونگیال کے اس جواب کے بعد میں نے سوچا کہ دوسرے مذاہب میں بگاڑ کی وجہ سے ایسے عقیدے شامل ہوگئے ہیں جن کو جاہل عوام تو مان سکتے ہیں، مگر ان کا کوئی شخص جب اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے علمی ذہن کے ساتھ ان عقائد کی موافقت نہیں پاتا، اس لیے وہ ان کو "معتدل" بناکر مانتا ہے۔ مگر اسلام چوں کہ ہر قسم کی تبدیلی سے پاک ہے ۔ اس لیے اسلام کا ماننے والا جب اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کو یہ ضرورت نہیں ہوتی کہ اپنے دینی عقائد کو

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page