Al-Risala · March 1987 · page 34

Dr Amadou-Mahtar M'Bow, Director General UNESCO

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴

اس کی زبان ایسی تھی کہ اس کو سمجھنے میں مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ اتنی اچھی انگریزی آپ خود لکھتے ہیں یا کوئی اور ہے جو اس کو لکھتا ہے ۔ میں نے کہا کہ اس کو فرشتے (Angels) لکھتے ہیں۔ یہ سن کر وہ دیر تک ہنستے رہے ۔

گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ امریکہ اور کناڈا میں پچھلے برسوں میں مذہب کا مطالعہ کرنے کا رجحان بڑھا ہے اور اسلام کا مطالعہ کرنے کا بھی ۔ مگر وہاں کا عام باشندہ ابھی تک اسلام کے بارہ میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں کا ایک عام آدمی اسلام کے نام سے صرف "خمینی" کو جانتا ہے اور خمینی کی تصویر جو امریکہ میں ہے اس کو آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔ ان کی باتوں سے میں نے یہ تاثر لیا کہ اسلام کے تعارف پر اگر ایسی انگریزی کتابیں شائع کی جائیں جن کی زبان واقعی انگریزی ہو، وہ "انڈین انگلش" نہ ہو ۔ دوسرے یہ کہ یہ کتابیں جدید اسلوب میں تیار کی گئی ہوں تو مغرب کے لوگ ان کو نہایت شوق کے ساتھ لیں گے اور ان کا باقاعدہ مطالعہ کریں گے ۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ عرصہ سے سوئزرلینڈ میں رہتے ہیں اور اب یہیں کی شہریت حاصل کرلی ہے ۔ انھوں نے مسلمانوں کی موجودہ حالت پر شدید غم کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کی حالت حیرت ناک حد تک درد اور کرب کی کہانی بن گئی ہے ۔ وہ لوگ جو اس لیے پیدا کیے گیے تھے کہ وہ زمین پر خیر امت ہوں ، وہ آج آخری بربادی کے گڑھے میں پہنچ گیے ہیں ۔ وہ آج اپنے دشمنوں کا شکار ہو رہے ہیں ۔ حتیٰ کہ آج ایک مسلمان اپنے بھائی کے مقابلے میں اپنے دشمن پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ ان کے الفاظ یہ تھے :

Those who were created to be the best nation on earth have descended to a bottomless pit, now they are subjected to their enemies to the extent that a Muslim has more trust in the enemy than in his brother. میں نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ انجام اس لیے ہے کہ انھوں نے مسلمان کی حیثیت سے اپنے فرض منصبی کو چھوڑ دیا ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ فرض منصبی کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ وہ دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی خدا کے سچے دین کو تمام اقوام عالم تک پہنچانا۔ یہ طرز فکر ان کے لیے بالکل نیا تھا ۔ اب تک ان کا ذہن یہ تھا کہ مسلمان جدید ترقیاتی شعبوں میں پچھڑ گیے ہیں اور ان شعبوں میں آگے بڑھ کر وہ اقوام عالم کے ہم سطح

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page