Al-Risala · January 1987 · page 14

بھارت کی تعمیر

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴

پہونچ رہا ہے ۔ ہندوستان کی سیاسی بنیا داب اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہ "تیسری دنیا" کے ملکوں کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔ اسی طرح ہندوستان کی صنعتی بنیا د اب اتنی گہری ہو چکی ہے کہ 1985 سے اس نے الیکٹرانک دور میں داخلہ کا آغاز کر دیا ہے ۔ پہلے ہندوستان کو یہ ڈر رہتا تھا کہ امپورٹ کا راستہ کھولنے سے اس کی اندرونی صنعت برباد ہو جائے گی ۔ اور اب ملک کو اس حد تک اعتماد پیدا ہو چکا ہے کہ وہ امپورٹ کی پابندیاں کم کرنے کے بعد بھی یہ اعتماد رکھتا ہے کہ وہ بیرونی صنعتوں کا مقابلہ کر کے آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ باتیں بلاشبہ اچھی ہیں ۔ یہ ہر ہندوستانی کے لیے خوشی کا باعث ہیں کہ پچھلے۴۰ سال میں ملک نے سیاسی اور صنعتی بنیاد حاصل کر لی ۔ مگر ہندوستان کی حقیقی ترقی کے لیے ابھی ایک اور مشکل تر مرحلہ باقی ہے ۔ اور وہ یہ کہ ملک کو اخلاقی بنیاد (Moral base) عطا کی جائے ۔ اخلاقی بنیاد فراہم کرنے کا مسئلہ فیصلہ کن حد تک اہم ہے ۔ اگر یہ بنیاد فراہم نہ ہو تو بقیہ میدانوں کی ترقیاں بھی غیر مؤثر ہو کر رہ جائیں گی ۔

یہاں ہم سابق وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک اقتباس نقل کریں گے ۔ انھوں نے اپنے سوانح نگار مائیکل بریچر کو انٹرویو دیتے ہوئے 1956 میں کہا تھا : What constitutes a good society? I believe in certain standards. Call them moral standards. They are important in any individual and in any social group. And if they fade away, I think that all the material advancement you may have will lead to nothing worthwhile. How to maintain them, I can't know. Nehru, A Political Biography, By Michael Brecher, p. 607 وہ کیا چیز ہے جو ایک اچھا سماج بناتی ہے ۔ میں کچھ متعین معیاروں میں عقیدہ رکھتا ہوں ۔ آپ ان کو اخلاقی معیار کہہ سکتے ہیں ۔ وہ ہر شخص اور ہر سماجی گروہ کے لیے اہم ہیں ۔ اور اگر وہ باقی نہ رہیں تو میرا خیال ہے کہ آپ نے جو بھی مادی ترقی حاصل کی ہو وہ بے قیمت ہو کر رہ جائے گی ۔ اس اخلاقی معیار کو کس طرح حاصل کیا جائے ، اس کا جواب مجھے نہیں معلوم ۔

ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم کی ایک تقریر اخبارات میں حسب ذیل الفاظ میں

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page