Al-Risala · January 1987 · page 15

بھارت کی تعمیر

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۵

آتی ہے :

Prime Minister Rajiv Gandhi today said building factories and dams was useless if the quality of human beings was not good. The Hindustan Times, September 12, 1986. وزیر اعظم راجیو گاندھی نے کہا کہ کار خانے اور بند بنانا بے فائدہ ہے اگر انسانوں کے اندر اچھی خصوصیات نہ ہوں۔

مثلاً ملک میں بجلی اور زراعت کی ترقی کے لیے ہمیں ایک ڈیم بنانا ہے۔ اب ایک ضرورت یہ ہے کہ ملک آزاد ہو تا کہ وہ کسی خارجی دباؤ کے بغیر خود اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کر سکے ۔ یہ ضرورت ملک کی سیاسی آزادی سے پوری ہو جائے گی ۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کی تعمیر کے لیے ضروری ٹکنالوجی موجود ہو۔ یہ ضرورت ہمارے وہ ٹنکل ماہرین پوری کر دیں گے جو انجینئر نگ کالجوں سے ڈگری لے کر نکل رہے ہیں ۔ مگر اچھے ڈیم کی تیاری کے لیے صرف یہی دو چیزیں کافی نہیں ۔ اسی کے ساتھ ایک تیسری چیز بھی ہے جو لازمی طور پر ضروری ہے، اور وہ ہے دیانت داری (Honesty) اگر کام کرنے والے افراد کے اندر دیانت داری کا مادہ نہ ہو تو سیاسی آزادی اور ٹکنکل قابلیت کے با وجود وہ ڈیم تیار نہ ہو سکے گا جو فی الواقع ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے ۔ دیانت داری نہ ہونے کی صورت میں یہ ہوگا کہ حکومت عوام سے ٹیکس وصول کرکے ایک ارب روپیہ ٹھیکہ داروں اور انجینیروں اور افسروں کے ہاتھ میں دے گی. مگر وہ روپیہ کا ایک حصہ اپنی جیب میں رکھنے کی خاطر یہ کریں گے کہ وہ غیر معیاری لوہا استعمال کریں گے ۔ وہ ریت اور سیمنٹ کا تناسب غلط کر دیں گے ۔ وہ پیسہ بچانے کے لیے ہر چیز میں کمی کرتے رہیں گے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بظاہر ڈیم تو بن کر تیار ہو جائے گا۔ مگر لوہے اور سیمنٹ (RCC) کی تعمیر کے با وجود وہ مضبوط نہ ہو گا ۔ بے پناہ خرچ اور سالوں کی منصوبہ بندی کے بعد ادھر ڈیم بن کر کھڑا ہو گا اور ادھر خبریں آنے لگیں گی کہ اس کا فلاں حصہ ٹوٹ گیا۔ ہے ۔ اس کے فلاں حصہ میں شگاف ہو گیا ہے ۔ بے پناہ خرچ کے بعد ایک پل بن کر کھڑا ہوگا اور اگلے سال خبر ملے گی کہ وہ ٹوٹ کر گر پڑا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page