بھارت کی تعمیر
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۶
اس ہولناک انجام سے بچنے کی صورت صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ملک میں جس طرح سیاسی انقلاب اور صنعتی انقلاب بر پا کیا گیا ہے ، اسی طرح ملک میں ایک لیےاخلاقی انقلاب بر پا کیا جائے ۔ ملک کو جس طرح سیاسی بنیاد اور صنعتی بنیاد فراہم کی گئی ہے اسی طرح اس کے اخلاقی بنیاد بھی فراہم کی جائے ۔
اب سوال یہ ہے کہ اخلاقی بنیاد کیا ہے اور اس کو ہم کس طرح ملک کے حق میں تعمیر کر سکتے ہیں ۔
اخلاقیات ( یا مارل فلاسفی ) پر بہت کچھ لکھا گیا ہے ، اب وہ ایک پیچیدہ فن بن گیا ہے مگر اس کی فنی تفصیلات اور اخلاقی فلاسفہ کے اختلافات سے قطع نظر ، یہاں میں صرف اس کے سادہ عملی پہلو کو بیان کروں گا۔ جو کہ اخلاق کے معاملہ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ اخلاق کا خلاصہ انسانیت کا احترام ہے۔ دوسرے افراد یا گر دو پیش کے انسانی معاشرہ کی نسبت سے آدمی کے اوپر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ، خواہ با ضابطہ طور پر ان کے بارہ میں قول و قرار ہوا ہو ، یا باضابطہ قول و قرار نہ ہوا ہو ، ہر حال میں ان کو ادا کرنا ضروری ہے ۔ اور اسی ادائیگی کا نام اخلاق ہے ۔
اس تعریف کے مطابق اخلاق ہر آدمی کی جانی پہچانی اور معلوم چیز ہے۔ ہر آدمی فطری طور پر حق اور ناحق کی پہچان رکھتا ہے ۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ دوسروں سے معاملہ کرتے ہوئے اس کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے ۔ اخلاق یہ ہے کہ آدمی اپنی اسی جانی ہوئی چیز پر عمل کرنے لگے ۔
اسی بنا پر اخلاقیات کے لیے قرآن وحدیث میں معروف اور منکر کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اسلام کی نظر میں پسندیدہ اخلاق "معروف" ہے اور ناپسندیدہ اخلاق "منکر" معروف کے معنی ہیں جانی پہچانی چیز، اور منکر کے معنی ہیں اجنبی چیز ۔ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اچھا قرار دیا ہے وہ وہی چیزیں ہیں جن کے اچھا ہونے کا شعور خود انسانی فطرت میں پیوست ہے ۔ اسی طرح جن چیزوں کو الہٰی شریعت میں برا قرار دیا گیا ہے وہ وہی چیزیں ہیں جن کو انسانی فطرت پیشگی طور پر برا سمجھتی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues