بھارت کی تعمیر
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۷
تاہم معروف و منکر کے یہ احساسات انسانی فطرت میں وجدانی طور پر پیوست ہیں نہ کہ اس طرح لکھے ہوئے ہیں جس طرح کاغذ کے صفحہ پر کوئی چیز لکھی جاتی ہے۔ الہٰی شریعت یہاں یہ کرتی ہے کہ وہ معروف و منکر کے احساسات کو الفاظ کی شکل دے دیتی ہے ۔ وہ محسوس چیز کو ملفوظ چیز بنا دیتی ہے ۔
حدیث میں اخلاق کی نہایت سادہ پہچان بتائی گئی ہے ۔ وہ یہ کہ تم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو سلوک تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ ہر آدمی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ دوسروں کو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے، بس اسی کو وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ کرے لگے۔ جس آدمی کے اندر یہ صفت آجائے وہ با اخلاق آدمی ہو گیا۔ اخلاق ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اس کے سوا کسی اور چیز کا نام نہیں کہ جو کچھ ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی ہم دوسروں کے لیے بھی پسند کرنے لگیں۔
اخلاق کے اس قدر معلوم اور معروف ہونے کے باوجود اخلاق ہی وہ چیز ہے جو لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاق کی ایک قیمت ہے اور اسی قیمت نے اس کے خریداروں کو اس سے دور کر رکھا ہے۔ لوگ جو کچھ صحیح سمجھتے ہیں اس کو کرتے نہیں ، کیوں کہ وہ اس کی قیمت دینا نہیں چاہتے۔
اخلاق کی قیمت کیا ہے، ایک لفظ میں اخلاق کی قیمت ہے ۔ قیمت نہ ملنے کے باوجود اخلاق برتنا۔ عام آدمی ہمیشہ مفاد کے تحت عمل کرتا ہے۔ یعنی جہاں ایک عمل کر کے کچھ بدلہ ملے وہاں وہ عمل کرے گا اور جہاں عمل کا بدلہ ملنے کی امید نہ ہو وہاں وہ عمل بھی نہیں کرے گا۔ جس سماج میں اس مزاج کے لوگ ہوں وہاں کبھی صحیح معنوں میں اخلاقی ماحول نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ زندگی میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ آدمی ایک اچھا سلوک کرنے تو فوراً اس کو اپنے اچھے سلوک کا بدلہ مل جائے ۔ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو بدلہ کی امید کے بغیر اچھا سلوک کرنا جانیں ۔ جو لوگ اپنے عمل کا فوراً بدلہ پانا چاہیں وہ کبھی اعلیٰ کردار کے مالک نہیں بنتے ، اور اسی لیے وہ اس دنیا میں کوئی بڑا کام بھی نہیں کر سکتے ۔ اخلاقی بنیاد فراہم کرنا دوسرے لفظوں میں اس کا نام ہے کہ لوگوں کو کوئی اتنی بڑی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues