Al-Risala · April 1987 · page 26

یہودی کردار

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶

یہودی کردار

روایات میں آتا ہے کہ مدینہ میں ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا۔ آپ نے اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس تقسیم میں کسی کو زیادہ ملا اور کسی کو کم۔ چنانچہ اس بنا پر کچھ لوگوں نے آپ کی دیانت داری پر شبہ ظاہر کرنا شروع کیا۔ ایک صحابی کہتے ہیں : مروریت برجلين واحدهما يقول لصاحبه میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا۔ ان میں سے والله ما اراد محمد بقسمته وجه ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم محمد الله ولا الدار الآخرة نے اپنی اس تقسیم میں اللہ کی رضا اور آخرت کا گھر نہیں چاہا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا : موسیٰ پر اللہ کی رحمت ہو، ان کو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا مگر انہوں نے صبر کیا (رحمة الله على موسى لقد اوذى باكثر من هذا فصبر، تفسیر ابن کثیر، الجز ء الثالث ، صفحہ ۵۲۱ ) قرآن کی حسب ذیل آیت میں اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے :

يا ايها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين اے ایمان والو ، تم ان کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں اذ وا موسى فبرأه الله مما قالوا وكان نے موسیٰ کو ستایا پھر اللہ نے ان کی کہی ہوئی باتوں عند الله وجيها سے موسیٰ کی برارت کر دی اور وہ اللہ کے ( الاحزاب : ۶۹ ) نزدیک باعزت تھا ۔

یہود نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس طرح ستایا اس کی تفصیل بائبل کی کتاب خروج اور کتاب گنتی میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ یہودی انسائیکلو پیڈیا میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ کو اپنی قوم کے باغی اور منحرف لوگوں سے بہت سی ذلت اور توہین برداشت کرنی پڑی ، حتی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں سے بھی جو کہ ان کی قیادت پر حسد کرتا تھا :

(Moses had) to suffer many indignities and insults from a rebel- lious and recalcitrant people, even from his closest relatives, who were jealous of his leadership. Jewish Encyclopedia, Volume V, p. 442

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page