یہ فرق کیوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۲۷
یہ فرق کیوں
قرآن میں اہل جنت کو دو بڑے طبقوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایک مقربین خاص ۔ اور دوسرے عام انعام یافتہ لوگ ۔ پھر بتایا گیا ہے کہ مقربین خاص کی تعداد پہلے لوگوں میں زیادہ ہوگی اور بعد کے لوگوں میں کم ہوگی ۔
وكنتم ازواجاً ثلاثة فأصحاب الميمنة اور تم لوگ (قیامت میں) تین قسم کے ہو جاؤ گے ۔ ما أصحاب الميمنة واصحاب المشئمة پھر دائیں والے ، کیا خوب ہیں دائیں والے ۔ ما أصحاب المشئمة والسابقون اور بائیں والے ، کیسے برے ہیں بائیں والے ۔ السابقون اولئك المقربون - في جنات نعيم اور آگے والے تو آگے ہی والے ہیں ۔ وہ مقرب من الاولين وقليل من لوگ ہیں ۔ نعمت کے باغوں میں ۔ ان کی بڑی الآخرين ۔ (الواقعة) تعداد اگلوں میں سے ہوگی ، اور تھوڑی تعداد پچھلوں میں سے ہوگی ۔
اس قرآنی بیان کی تشریح کرتے ہوئے ابن کثیر اپنی تفسیر کی کتاب میں لکھتے ہیں : لا شك ان اوّل كل أمة خير من آخرها اس میں شک نہیں کہ ہر امت کا پہلا گروہ اس فيحتمل ان تعم الآية جميع الامم كل کے بعد کے گروہ سے بہتر ہے ۔ اس لیے ہو سکتا أمة بحسبها ۔ ولهذا اثبت فى الصحاح ہے کہ یہ آیت حسب حیثیت تمام امتوں کے لیے وغيرها من غير وجه ان رسول الله صلى الله ہو ۔ اور صحاح اور دوسری کتب حدیث میں عليه وسلم قال : خير القرون قرنى ایک سے زیادہ طریقوں سے مروی ہے کہ ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، سب سے (البحر الرائق ، صفحه ۲۸۴) بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے ۔ اس کے بعد جو لوگ آئیں گے اور اس کے بعد جو لوگ آئیں گے ۔
پہلے گروہ اور دوسرے گروہ میں اس فرق کی وجہ کیا ہے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ایک مفسر قرآن لکھتے ہیں : " ہر امت کے پہلے طبقہ میں نبی کی صحبت یا قرب عہد کی برکت سے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues