Al-Risala · April 1987 · page 28

یہ فرق کیوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۲۸

اعلیٰ درجے کے مقربین جس قدر کثرت سے ہوئے ہیں ، پچھلے طبقوں میں وہ بات نہیں رہی۔ مگر یہ توجیہہ صحیح نہیں۔ اگر یہ فرق صحبت کی وجہ سے پیدا ہوتا تو قرآن میں یہ درج ہونا چاہیے تھا کہ دورِ اوّل کے تمام لوگ " السّابقون " ہوں گے اور دورِ ثانی کے تمام لوگ " اصحابِ الیمین "۔ اس کے برعکس قرآن کے مطابق " صحبت یافتہ " طبقہ میں بھی دونوں قسم کے افراد ہوں گے اور " غیر صحبت یافتہ " طبقہ میں بھی دونوں قسم کے افراد ۔

اصل یہ ہے کہ یہ فرق اصلاً نوعیتِ ایمان کے اعتبار سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ صرف نوعیتِ زمانہ کے اعتبار سے ۔ پیغمبر کا دور دعوت کا دور ہوتا ہے۔ اس وقت جو لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں وہ دعوت کے ذریعہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہ شعوری انقلاب کے ذریعہ اسلام قبول کرتے ہیں۔ ان کا اسلام ان کے لیے ایک دریافت ہوتا ہے۔ یہ چیز ان کو وہ برتر ایمان عطا کرتی ہے جو ان کو السّابقون کی صف میں داخل کر دیتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں بعد والوں کا اسلام نسلی اسلام ہوتا ہے ۔ ان کو اسلام بطور وراثت ملتا ہے نہ کہ بطور دریافت ۔ ظاہر ہے کہ وراثت والے اسلام میں وہ خصوصیات نہیں ہو سکتیں جو دریافت والے اسلام میں ہوتی ہیں ۔ تا ہم بعد کے دور میں بھی جن افراد کو اللہ کی توفیق سے دریافت والا اسلام حاصل ہو جائے تو وہ بھی اللہ کے نزدیک اس کے مستحق قرار پائیں گے کہ انھیں السّابقون کی صف میں داخل کیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page