Al-Risala · April 1987 · page 29

یہ فرق کیوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹

ایک سفر

فروری ۱۹۸۷ میں حیدر آباد کا سفر ہوا۔ یہ حیدر آباد کے لیے میرا دسواں سفر تھا۔ ابتدائی چھ سفروں کا تذکرہ الرسالہ اکتوبر ۱۹۸۳ میں شائع ہو چکا ہے۔ میرا ساتواں سفر اسلامی مرکز کی شاخ حیدر آباد کے افتتاح کے سلسلہ میں تھا۔ اس موقع پر وہاں افتتاحی جلسہ ہو جس میں دیگر شخصیتوں کے علاوہ جناب سید مکثر شاہ صاحب اور جناب سید ہاشم علی صاحب شریک ہوئے ۔ اس سفر کی روداد مقامی اخبارات (مثلاً سیاست ، رہنمائے دکن ، منصف ۱۲ فروری ۱۹۸۴) میں تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی ۔

حیدر آباد کے لیے میرا آٹھواں سفر جولائی ۱۹۸۵ میں ہوا۔ اس سفر کی روداد الرسالہ نومبر ۱۹۸۵ میں شائع ہو چکی ہے۔ نواں سفر جنوری ۱۹۸۷ میں ہوا۔ یہ ایک تنظیمی اور انتظامی نوعیت کا سفر تھا۔ اس موقع پر کوئی عمومی پروگرام نہیں کیا جا سکا۔ دسواں سفر موجودہ سفر تھا جو فروری ۱۹۸۷ میں پیش آیا۔

۱۳ فروری ۱۹۸۶ کی صبح کو ۶ بجے دہلی ایرپورٹ پر پہنچا تو حسب معمول ایرپورٹ پر آدمیوں کی زبر دست چہل پہل تھی۔ کوئی ایک طرف جا رہا تھا اور کوئی دوسری طرف ۔ کسی کے چہرہ پر سکون تھا اور کسی کے چہرہ پر اداسی۔ میں نے سوچا کہ کوئی شخص خوشی کی خبر سن کر جا رہا ہے اور کوئی شخص غم کی خبر سن کر۔ کوئی اپنے تجارتی فائدہ کی طرف جا رہا ہے اور کوئی اپنے تجارتی نقصان کی طرف ۔ بظاہر ہر آدمی الگ الگ منزل کا مسافر ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے دیکھئے تو سب کی منزل ایک ہے ۔ اور وہ موت ہے۔ ہر ایک بالآخر موت کے کنارے پہچنے والا ہے ۔ مگر یہی وہ یقینی منزل ہے جس کا علم کسی کو نہیں ۔

جہاز کے اندر "انفلائٹ ریڈنگ" کے لیے انڈین ایر لائنس کا ماہنامہ سواگت (فروری ۱۹۸۷) تھا۔ اس میں ایک مضمون ہندوستان کے عیسائی چرچ کے بارے میں تھا۔ اس مضمون کے ساتھ کئی تصویریں تھیں جن میں چرچ کی اندرونی تصویر بھی تھی۔ اس میں حضرت مسیح کو (نعوذ باللہ) اس حال میں دکھایا گیا تھا کہ جسم کے کپڑے اترے ہوئے ہیں اور ہاتھ پاوں میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page