Al-Risala · April 1987 · page 30

یہ فرق کیوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳۰

میں ٹھوںک کر آپ کو بالکل بے چارگی کے عالم میں ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ اس کو دیکھ کر مجھے یورپ کے ایک عیسائی کی بات یاد آئی۔ اس نے کہا تھا کہ مغربی دنیا میں عیسائیت کے زوال کا اصل سبب عیسائی مذہب نہیں بلکہ عیسائی چرچ ہیں۔ عیسائی چرچ ایک طرف حضرت مسیح کو خدا بتاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ دکھاتے ہیں کہ آپ کو بے چارگی کے ساتھ صلیب پر لٹکا کر ہلاک کر دیا گیا۔ اب آج کا ایک تعلیم یافتہ نوجوان جب وسیع کائنات کو دیکھتا ہے تو اس کو یہ تصور بالکل نا قابل فہم معلوم ہونے لگتا ہے کہ جو خدا اتنی بڑی کائنات کا خالق و مالک ہے ، وہ اس بے چارگی کے ساتھ انسانوں کے ہاتھ سے ہلاک کر دیا جائے۔ آج حیدر آباد ایک شہر کا نام ہے۔ چالیس سال پہلے حیدر آباد ایک اسٹیٹ کا نام تھا جس کا رقبہ اٹلی کے برابر تھا ۔ یہاں کا نواب دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ حیدر آباد کا ابتدائی بانی سلطان قلی قطب شاہ تھا ۔ وہ بہمنی سلطنت میں ایک فوجی افسر تھا۔ ۱۵۱۲ء میں اس نے بغاو ت کر کے اس علاقہ میں اپنی آزاد سلطنت قائم کر لی۔ جو تاریخ میں قطب شاہی کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ سلطنت چلتی رہی ، یہاں تک کہ اورنگ زیب نے ۱۶۸۵ء میں اس کو فتح کر کے مغل سلطنت میں شامل کر لیا ۔ اس کے بعد یہاں مغل گورنر رہنے لگے۔ نظام الملک آصف جاہ اسی قسم کا ایک گورنر تھا۔ ۱۳۱۷ء میں اس کا تقرر ہوا۔ اس کے بعد اس کے اندر آزادی کے رجحانات پیدا ہوئے ۔ ۱۴۴۷ء میں اس نے اس علاقہ کو دہلی کی مغل سلطنت سے کاٹ لیا اور یہاں اپنی آزاد سلطنت قائم کر لی۔ غیر منقسم ہندوستان میں یہ ملک کی سب سے بڑی ریاست تھی۔

ہندوستان کی آزادی کے بعد سابق مسلم نواب (نظام دکن ریاست کو سابقہ حیثیت پر باقی رکھنا چاہتے تھے ۔ وہ نئی ہندوستانی حکومت سے موجودہ صورت حال کی بحالی کا معاہدہ (Standstill agreement) کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ۲۹ نومبر، ۱۹۴۷ء کو اس معاہدہ پر دستخط ہو گئے تھے ۔ اس معاہدہ کے تحت حیدر آباد کو ایک قسم کی نیم آزاد ریاست کی حیثیت حاصل رہتی ۔ مگر انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار کے الفاظ میں، نظام حیدر آباد کا منصوبہ ناکام ہو گیا جس کا بڑا سبب یہ تھا کہ مقامی طور پر ایک مقبول مسلم لیڈر (قاسم رضوی) نے ایک عسکری

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page