یہ فرق کیوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳۱
تحریک رضا کار کے نام سے چلادی۔ اس نے ہندوستان کی فوجی طاقت کو موقع دیدیا کہ وہ ریاست میں مداخلت کرکے ستمبر ۱۹۴۸ میں اس کو اپنے کنٹرول میں لے لے۔ چار روزہ پولیس ایکشن کے بعد حیدر آباد نے دوسری دیسی ریاستوں کی حیثیت کو قبول کر لیا۔ بعد کو وہ تقسیم کر دی گئی اور جغرافی نقشہ سے اس کا وجود مٹ گیا :
حیدر آباد کی مسلم ریاست ۴۴۷۱ میں اپنے مرکز سے بغاوَت کے نتیجہ میں قائم ہوئی تھی ۔ اور ۱۹۴۸ میں وہ خود مسلم قیادت کی نادانی کے نتیجہ میں ختم ہو گئی۔ یہی کہانی پچھلے کئی سو سال سے مسلم تاریخ میں دہرائی جا رہی ہے ۔ اپنے مرکز سے بغاوت کر کے اتحاد کو ختم کرنا اور پھر مزید نادانیوں کے نتیجہ میں اپنا وجود مٹا لینا ۔ حیدر آباد کا آغاز مسلم تاریخ کے ایک المیہ کو بتاتا ہے اور اس کا اختتام مسلم تاریخ کے دوسرے المیہ کو۔
پاکستان کی شائع شدہ ایک کتاب میں حیدر آباد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے قائد اعظم کی وفات (۱۱ ستمبر ۱۹۴۸) کی خبر سن کر تمام پاکستانی سوگ میں مصروف تھے ۔ وہ شخصیت اس دنیا سے اُٹھ گئی تھی جس سے بھارتی لیڈر خائف تھے۔ اس لیے انھوں نے حیدر آباد کے خلاف فوجی کارروائی کر کے اسے زبردستی بھارت میں شامل کر لیا (تاریخ پاکستان وہند، صفحہ ۴۷۶) موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے ایسے فانی لیڈر تو پیدا کر لیے جن سے دیگر اقوام خائف ہوں۔ مگر وہ ایسے غیر فانی خدا کو نہ پاسکے جو دیگر اقوام کے مقابلہ میں ان کا مددگار بن سکے ۔ کیسی عجیب ہے ان کی محرومی اور کیسی عجیب ہے ان کی کامیابی۔
شہر حیدر آباد کی ۳۰ لاکھ آبادی میں ۱۴ لاکھ مسلمان ہیں ۔ یعنی کل آبادی کا تقریباً ۴۵ فی صد ۔ تاہم مسلمانوں کی اس آبادی کا ۸۰ فی صد سے زیادہ حصہ قدیم حیدر آباد میں بسا ہوا ہے۔ جدید حیدر آباد میں ان کی تعداد نسبتاً بہت کم ہے ۔ مسلمانوں کی آبادی کا یہی تناسب ہندوستان
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues